کرنسی میں بھی استحکام ہے اور پالیسی ریٹ بھی کم ہوا ہے ، ہماری معیشت کی بنیاد بن گئی ہے
بجٹ سے پہلے کاروباری حضرات سے ملاقاتیں شروع کردیں، محمد اورنگزیب کی میڈیا سے گفتگو

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے حوالے سے بیان سامنے آگیا۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ملک میں معاشی استحکام آ رہا ہے ، اسٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کرنسی میں بھی استحکام ہے اور پالیسی ریٹ بھی کم ہوا ہے ، ہماری معیشت کی بنیاد بن گئی ہے ، اب ہمیں پائیدار ترقی کی طرف جانا ہے ۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا بجٹ سے پہلے ہی کاروباری حضرات سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں، ایف بی آر میں اصلاحات پر بھی کام کر رہے ہیں، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز کا بوجھ ہے ، آنے والے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا سوچیں گے ۔محمد اورنگزیب کا کہنا تھا پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹیکس نظام میں بہتری آئی ہے ، ریئل اسٹیٹ میں بھی ٹیکس بہتری آئی ہے ، ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سٹہ بازی نہیں چلنے دیں گے ، تعمیراتی انڈسٹری کی سپورٹ کے لیے کام کر رہے ہیں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا سعودی عرب، دبئی اور واشنگٹن میں سب سے ملاقاتیں ہوئیں، اوورسیز میں کوئی ناراضی نہیں ہے ، ملک میں 35 ملین ڈالر تک زر مبادلہ پہنچ چکا ہے ، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بھی پہلے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا ملک کو پرائیویٹ سیکٹر ہی آگے لے کر جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • لنکا پریمیئر لیگ میں کئی پاکستانی اسٹارز بھی شامل
  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی