وی پی این استعمال کرنے والوں کے لئے بڑی خبر
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وی پی این سروس فراہم کنندگان کو لائسنس کا اجرا شروع کردیا گیا، اقدام کاروباری اداروں کو وی پی این کے قانونی استعمال کی سہولت فراہم کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) نے وی پی این سروس فراہم کنندگان کو لائسنس کا اجرا شروع کردیا۔
پی ٹی اے کی جانب سے 2 کمپنیوں کو درخواستوں پر لائسنس جاری کر دیا گیا، اقدام کاروباری اداروں کو وی پی این کے قانونی استعمال کی سہولت فراہم کرے گا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ڈیٹا کی سیکیورٹی،پرائیویسی اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکتاہے، پی ٹی اے اداروں کو ذمہ داری کیساتھ کنیکٹیویٹی کی معاونت کیلئے پُرعزم ہے۔
پاکستان اپنے انٹرنیٹ کو بڑھانے کے لیے 26.
یاد رہے نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی بورڈ نے وی پی این اور اے آئی استعمال کرنے والے صارفین کے سائبر حملوں سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ ملک میں سائبر حملوں کی نئی مہم کا کھوج لگایا گیا ہے، ذاتی معلومات، کوائف چوری کرنے کے لیے براؤزر ایکسٹیشنز کا استعمال کیا جاتا ہے۔
فیس بک، بینکنگ ویب سائٹس کے ذریعے معلومات چوری کا خدشہ ہے، 16 عام ایکسٹینشنز بشمول وی پی این اور اے آئی چیٹ بوٹس مشتبہ ہیں، اے آئی اسسٹنٹ چیٹ جی پی ٹی اور جیمنی برائے کروم بھی مشتبہ ہے۔
مزیدپڑھیں:مسافروں کیلیے برُی خبر، اہم ٹرین بند
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔
سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔
اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔
مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔