بالی ووڈ اداکار گووندا اور اہلیہ کے درمیان 37 سال بعد طلاق کی افواہیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
بالی ووڈ اداکار گووندا اور ان کی اہلیہ کے درمیان شادی کے 37 سال بعد طلاق کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اداکار گووندا اور ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کے درمیان طلاق ہونے والی ہے جبکہ جوڑا کافی عرصے سے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ذرائع کے مطابق گووندا کا ایک 30 سالہ مراٹھی اداکارہ کے ساتھ مبینہ تعلق اس علیحدگی کا سبب بنا ہے تاہم، گووندا یا سنیتا کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق یا بیان نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: شوٹنگ پر 12 گھنٹےدیر سے پہنچنے والے گووندا اب وقت سے پہلے کیوں آتے ہیں؟
چند ہفتے پہلے ایک انٹرویو میں سنیتا آہوجا نے کہا تھا کہ وہ اور گووندا ایک دوسرے سے الگ الگ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو ہمارے قریب ہوتے ہیں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ کسی کو اپنا گھر توڑنے نہیں دیں گی اور کوئی انہیں الگ نہیں کر سکتا۔
سنیتا آہوجا نے خواتین کو کہا کہ اپنے شوہروں کا خیال رکھیں کیونکہ مرد کرکٹ کی طرح ہوتے ہیں کبھی اچھے اور کبھی برے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ اپنے مردوں کو ہاتھ میں رکھیں جیسا کہ انہوں نے رکھا ہوا ہے اور اگر ایسا نہیں کر سکتیں تو انہیں ماریں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیر کی بیٹی نے گووندا کے گھر 20 دن تک بطور ملازمہ کام کیوں کیا؟
گووندا کی اہلیہ نے مزید کہا کہ وہ احمق لوگوں پر اپنی توانائی خرچ نہیں کرنا چاہتیں اور کم بولنا پسند کرتی ہیں تاہم گووندا احمق لوگوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ وہ چار احمق لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور پھر فضول باتیں کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ سینئر اداکار کی شادی کو 37 برس بیت چکے ہیں۔ گووندا اور سنیتا آہوجا نے 11 مارچ 1987 کو شادی کی تھی۔ اس جوڑے کے دو بچے ہیں ایک بیٹا یشور دھن آہوجا اور ایک بیٹی ٹینا آہوجا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ گووندا گووندا طلاق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ گووندا سنیتا آہوجا
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں