کئی علاقوں میں کتوں، گدھوں اور مینڈک کا گوشت کھانے کے لیے فروخت ہوتا ہے، سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ کے اجلاس میں رکن کمیٹی ایمل ولی خان نے انکشاف کیا کہ کئی علاقوں میں کتوں، گدھوں اور مینڈک کا گوشت کھانے کیلئے فروخت ہوتا ہے، پلاسٹک کے چاول بھی فروخت کیے جا رہے ہیں۔جیو نیوز کے مطابق اجلاس میں ملک میں غیر معیاری خوراک کی فروخت پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ایمل ولی خان نے تجویز دی کہ ملک میں فوڈ سیفٹی کی ایک واضح اور سخت پالیسی بنائی جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کی جاسکے۔ اجلاس میں فوڈ سیفٹی پالیسی کی تشکیل اور برآمدات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ذیلی کمیٹی کی تشکیل کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
مریم نواز کا ویژن ہے کہ ہر صحافی کے پاس اپنا گھر ہو: عظمیٰ بخاری
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔