احسن اقبال کا پی ٹی آئی کو اپنا سربراہ تبدیل کرنے کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے پی ٹی آئی کو اپنا سربراہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ بانی پی ٹی آئی قومی مجرم ہیں،پی ٹی آ ئی کی کوئی ایماندار قیادت سامنے لائی جائے،اپوزیشن پاکستان کی ترقی کی وجہ سے پریشان ہے۔پاکستان کو معاشی لانگ مارچ کی ضرورت ہے،اپوزیشن خالی کرسیوں کے ساتھ کانفرنس کررہی ہے،تحریک انصاف کو امید ہے کہ شاید امریکا انہیں بچا لےگا ۔
یہ لطیفہ ہے کہ امریکا بانی پی ٹی آئی کو رہائی دلائے گا پھر بانی پی ٹی آئی پاکستان کو امریکا کی غلامی سے نجات دلائیں گے،امریکا ایسا نہیں کرے گا، بانی پی ٹی آئی سیاسی قیدی نہیں ہیں،بانی پی ٹی آئی کے پاس مقدمات عدالتوں سے ختم کرانا ہی واحد حل ہے۔
ملک میں اس وقت مثبت سیاست کی ضرورت ہے،گالم گلوچ، دھرنے اور احتجاج کی سیاست کے ہتھکنڈے ختم ہو گئے،تحریک انصاف کرپشن کے خاتمے کی سیاست کرتی تھی،پی ٹی آئی کے لیڈر پر سب سے بڑی چوری ثابت ہو گئی ہے۔64ارب کا ڈاکہ ڈال کر خود کو صادق اور امین کہنا ناانصافی ہے،ہماری حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ پن سے بچایا، یکم اپریل 2022 میں تحریک انصاف ملک کو دیوالیہ کر چکی تھی۔آج سرمایہ کار پاکستان کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں،یہ مسلم لیگ ن کی کامیاب پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔