سینیٹ قائمہ کمیٹی اجلاس،پلاسٹک کے چاول، کتوں، گدھوں، مینڈک کے گوشت کی فروخت کاانکشاف
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
اسلام آباد (اوصاف نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ کے اجلاس میں رکن کمیٹی ایمل ولی خان نے انکشاف کیا کہ کئی علاقوں میں کتوں، گدھوں اور مینڈک کا گوشت کھانے کیلئے فروخت ہوتا ہے، پلاسٹک کے چاول بھی فروخت کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں ملک میں غیر معیاری خوراک کی فروخت پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ایمل ولی خان نے تجویز دی کہ ملک میں فوڈ سیفٹی کی ایک واضح اور سخت پالیسی بنائی جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کی جاسکے۔ اجلاس میں فوڈ سیفٹی پالیسی کی تشکیل اور برآمدات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ذیلی کمیٹی کی تشکیل کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
سینئر کھلاڑیوں کی اگلی سیریز میں بریک لینے کیلئے مشاورت شروع
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔