پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنماء شازیہ مری نے وفاقی کابینہ میں وزراءکی فوج بھرتی کرنے پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کفایت شعاری کیا صرف غریب ملازمین کیلئے ہے ،کیا وفاقی کابینہ میں درجنوں وزرا شامل کرنے سے قومی خزانے پر بوجھ نہیں پڑے گا؟ اپنے ایک بیان میں رہنماء پیپلزپارٹی کامزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت عوام دشمن فیصلے لینے سے گریز کرے۔ حکومت کے اس فیصلے پر تشویش ہے۔پیپلز پارٹی ہر عوام دشمن منصوبے کے خلاف ہے اور ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں وزرا کی فوج بھرتی کی جارہی ہے اور دوسری طرف غریب ملازمین سے روزگار چھینا جارہا ہے۔ کفایت شعاری کیا صرف غریب ملازمین کیلئے ہے جنہیں بیروزگار کرکے ان کے چولہے بند کئے جارہے ہیں۔ رہنماءپیپلزپارٹی نے وفاقی کابینہ میں توسیع کرنے پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے متعصبانہ فیصلوں کو واپس لیا جائے۔حکومت کو اس عوام دشمن فیصلے پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی شازیہ مری نے یوٹیلٹی اسٹورز ملازمین کی برطرفی پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف وزرا ءیقین دہانی کروا رہے ہیں کہ ملازمین کو نہیں نکالا جائے گا تو دوسری طرف چھانٹیاں کی جا رہی ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں یقین دہانی کرائی گئی کہ فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی۔ ملازمین کو برطرف کرکے اور یوٹرن لینے سے حکومتی ساکھ شدید متاثرہورہی ہے۔ملک میں روزگار کے ذرائع پیدا کرنے کے بجائے انہیں بند کیا جارہا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روزوفاقی کابینہ میں توسیع کی گئی تھی اور کابینہ میں نئے شامل ہونے والے 13 وفاقی وزرا اور11وزراءمملکت سمیت مشیران نے حلف اٹھایاتھا۔وفاقی کابینہ میں نئے شامل ہونے والے وزرا مملکت کی تقریب حلف برداری ایوان صدر میں ہوئی تھی۔ صدرآصف علی زرداری نے وفاقی وزرا سے حلف لیا تھا۔حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم شہبازشریف اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے۔وفاقی کابینہ میں شامل ہونے والوں میں حنیف عباسی، معین وٹو،مصطفیٰ کمال،سردار یوسف، اورنگزیب کچھی، رانا مبشر، رضا حیات ہراج، طارق فضل چوہدری، علی پرویزملک،شزا فاطمہ،جنید انور اور خالد مگسی نے بھی بطور وفاقی وزیرحلف اٹھایا تھا جبکہ طلال چوہدری، بیرسٹرعقیل ملک، ملک رشید،کھیئل داس کوہستانی، عبدالرحمان کانجو، بلال اظہرکیانی، مختاربھرت،عون چوہدری اور وجیہہ قمر نے بھی بطور وزیرمملکت کا حلف اٹھایاتھا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ میں غریب ملازمین ملازمین کی

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں دکانیں، مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس جلد بند کرنے کا نیا شیڈول جاری
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟