رواں برس رمضان المبارک 1446 ہجری کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا۔محکمہ اوقاف کے مطابق رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس آج پشاور میں مولانا عبدالخبیر کی زیر صدارت ہوگا۔اس کے علاوہ کراچی، کوئٹہ، اسلام آباد، لاہور سمیت دیگر علاقوں میں بھی زونل کمیٹی کے اجلاس آج ہوں گے۔چاند نظر آنے یا نہ آنے کا حتمی اعلان چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کریں گے۔محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم جزوی طور پر آبر آلود رہے گا .

جس کے باعث آج رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کے امکانات کم ہیں۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 12 گھنٹے اور 45 منٹ ہوگی۔سعودی عرب میں پہلا روزہ یکم مارچ کو ہوسکتا ہے جبکہ پاکستان میں پہلا روزہ اتوار 2 مارچ کو ہونے کا امکان ہے. پاکستان میں 29 روزے اور عید 31 مارچ کو ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب سپارکو نے رمضان المبارک کے چاند کی پیشگوئی کردی، سعودی عرب میں یکم مارچ اور پاکستان میں 2 مارچ کو پہلا روزہ ہونے کا امکان ہے۔

ترجمان سپارکو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں رمضان المبارک 2 مارچ سے شروع ہونے کا امکان ہے جب کہ سعودی عرب میں 28 فروری کو چاند نظر آسکتا ہے اور یکم مارچ کو پہلا روزہ ہوگا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ نیا چاند 28 فروری کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 45 منٹ پر پیدا ہوگا اوراسی دن غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 12 گھنٹے ہوگی جب کہ 28 فروری کو کم بلندی اور فاصلے کی وجہ سے چاند نظر آنا مشکل ہوگا۔ترجمان نے کہا کہ رمضان المبارک کے چاند کا حتمی فیصلہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔ترجمان سپارکو کا مزید کہنا تھا کہ شوال کا چاند 30 مارچ کو متوقع ہے اور عیدالفطر 31 مارچ کو ہوسکتی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: رمضان المبارک پاکستان میں ہلال کمیٹی پہلا روزہ اجلاس ا ج چاند نظر کا چاند مارچ کو

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ