WE News:
2026-06-03@08:20:41 GMT

انگلینڈ کی کپتانی چھوڑنے والے جوز بٹلر کے کیریئر پر ایک نظر

اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT

انگلینڈ کی کپتانی چھوڑنے والے جوز بٹلر کے کیریئر پر ایک نظر

آئی سی سی چیمیئنز ٹرافی میں جنوبی افریقہ کے خلاف میچ جوز بٹلر کا بطور کپتان آخری میچ ہوگا کیوں کہ انہوں نے افغانستان سے شکست کے سبب مقابلے سے باہر ہوجانے پر کپتانی چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چمیپیئنز ٹرافی: افغانستان سے شکست پر انگلینڈ کے کپتان مستعفی

یاد رہے کہ چیمپئنز ٹرافی گروپ بی کے اہم میچ میں افغانستان نے دلچسپ مقابلے کے بعد انگلینڈ کو شکست دے کر سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر کردیا تھا۔

جوز بٹلر نے جمعے کو انگلش کوچ برینڈن میکولم  کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے درست وقت ہے کہ میں یہ عہدہ چھوڑ دوں۔

یاد رہے کہ افغانستان کی جانب سے دیے گئے 326 رنز کی ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم 317 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی تھی اور 8 رنز کے فرق سے میچ کے ساتھ ساتھ ٹورنامنٹ بھی اس کے ہاتھ سے جاتا رہا تھا۔

بٹلر کا کیریئر، بطور کپتان کارکردگی

بٹلر نے مجموعی طور پر 44 ون ڈے میچوں میں انگلینڈ کی کپتانی کی جس میں 18 جیتے اور 25 میں شکست ہوئی جبکہ ایک میچ کا نتیجہ نہیں نکلا تھا۔

ٹی 20 میچوں میں بٹلر کا بطور کپتان بہتر ریکارڈ ہے۔ ان کی قیادت میں ٹیم نے 51 میچوں میں سے 26 میں فتح حاصلی کی، 22 میں شکست کھائی جبکہ 3 بے نتیجہ رہے۔

مزید پڑھیے: افغانستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد انگلینڈ کو ہرا کر چیمپیئنز ٹرافی سے باہر کردیا

34 سالہ بٹلر نے 57 ٹیسٹ میچز کھیلے اور کل 2 ہزار 907 رنز بنائے۔ انہوں نے 2 سینچریاں اور 18 نصف سینچریاں بنائیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور 157 رنز ہے۔

انہوں نے کل 186 ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کھیلے جن میں ان کا مجموعی اسکور 5 ہزار 175 رہا۔ ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 11 سینچریاں اور 27 نصف سینچریاں اسکور کیں۔ اس فارمیٹ میں ان کا ہائیسٹ اسکور 162 رنز ناٹ آؤٹ رہا۔

ٹی 20 فارمیٹ (بین الاقوامی) میں بٹلر نے 134 میچوں میں حصہ لیا اور 3 ہزار 535 رنز بنائے۔  اس فارمیٹ میں انہوں نے 26 نصف سینچریاں اور ایک سینچری بنائی۔ اس طرح ان کا سب سے زیادہ اسکور ناقابل شکست 101 رنز رہا۔

واضح رہے کہ جوز بٹلر نے سنہ 2011 میں ٹی 20 میچوں سے اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے ایک روزہ انٹرنیشنلز میں اینٹری سنہ 2012 میں دی جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا ڈیبیو سنہ 2014 ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انگنلیڈ کے کپتان جوز بٹلر جوز بٹلر جوز بٹلر کا کیریئر جوز بٹلر کا کیریئر ایک نظر میں جوز بٹلر کل رنز جوز بٹلر کل میچز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جوز بٹلر جوز بٹلر کا کیریئر جوز بٹلر کل رنز میچوں میں جوز بٹلر انہوں نے بٹلر کا بٹلر نے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ