سانحہ کوہستان کو 13 برس بیت گئے، دہشتگرد ابھی تک آزاد
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
28 فروری 2012ء پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب کوہستان میں دہشتگردوں نے 19 شیعہ مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ چیک کر کے شہید کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ سانحہ کوہستان کو 13 برس بیت گئے لیکن درجنوں شیعہ مسافروں کے قتل عام کے مجرمان ابھی تک قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ 28 فروری 2012ء پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب کوہستان میں دہشتگردوں نے 19 شیعہ مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ چیک کر کے شہید کر دیا۔ رالپنڈی سے گلگت بلتستان جانے والی بسوں کو کوہستان ہربن کے مقام پر سکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس مسلح دہشتگردوں نے روک لیا، تمام مسافروں کو بسوں سے اتارا اور ان کے شناختی کارڈ چیک کر کے شیعہ مسافروں کو ہاتھ پیر باندھ کر گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ اس دلخراش سانحے کو 13 برس بیت گئے، تاحال کسی دہشتگرد کو سزا نہیں دی جا سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شیعہ مسافروں مسافروں کو
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔