جبری لاپتہ کھرمنگ کے عالم دین کی عدم رہائی پر آج ضلع بھر کے علماء و عمائدین کا اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
جامعہ محمدیہ کھرمنگ میں 10 بجے عوامی مشاورت ہو گی جس میں پورے یونین کونسل کھرمنگ اور کھرمنگ بھر کے عمائدین اور علماء کو خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور شاہراہ کارگل پہ دھرنا دینے کے حوالے سے حتمی اقدامات کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کھرمنگ کے معروف عالم دین علی عباس رضوی کی جبری گمشدگی کیخلاف لائحہ عمل کیلئے آج اہم مشاورت ہو گی اور شاہراہ کارگل پر دھرنا دینے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق میر واعظ غندوس کھرمنگ آغا علی عباس رضوی کی رہائی کے وعدے کے باوجود عدم رہائی پہ ایک ہنگامی اجلاس کا انعقاد رضوی ہاوس غندوس میں منعقد ہوا، جس میں غندوس کے بزرگان اور جوانان نے بھرپور شرکت کی، ہنگامی اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی و صدر مجلس وحدت مسلمین کھرمنگ شیخ اکبر رجائی اور عوامی ایکشن کمیٹی کھرمنگ کے سربراہ شبیر مایار نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ جامعہ محمدیہ کھرمنگ میں 10 بجے عوامی مشاورت ہو گی جس میں پورے یونین کونسل کھرمنگ اور کھرمنگ بھر کے عمائدین اور علماء کو خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور شاہراہ کارگل پہ دھرنا دینے کے حوالے سے حتمی اقدامات کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شرکت کی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔