رمضان میں پانی کی کمی سے بچیں، یہ آسان طریقے اختیار کریں!
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
رمضان المبارک میں روزے کے دوران پیاس کا احساس زیادہ بڑھ جاتا ہے٭
پانی انسانی جسم کے لیے سب سے ضروری عنصر ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ خاص طور پر رمضان المبارک میں روزے کے دوران پیاس کا احساس زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
روزے کے دوران جسم میں پانی کی کمی واقع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس مسئلے سے بچنے کے لیےماہرین ان احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
سحر و افطار میں پانی کا زیادہ استعمال
گرمی کے دوران جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے افطار اور سحر کے درمیان زیادہ سے زیادہ پانی پینا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق دن بھر پیاس سے بچنے کے لیے کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینا چاہیے۔
پانی کی کمی سے بچنے کے لیے غذائی تدابیر
سحری میں دودھ اور دہی کا استعمال نہ صرف پانی کی کمی کو روکتا ہے بلکہ معدے کو بھی صحت مند رکھتا ہے۔
سحری اور افطار میں کھیرے، تربوز، خربوزہ، کینو، سیب اور دیگر رسیلے پھلوں کا استعمال کریں، کیونکہ یہ پانی اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم کو دیر تک ہائیڈریٹ رکھتے ہیں۔
پیاس بڑھانے والی اشیاء سے گریز
سحری اور افطار میں سوڈا، کیفین (چائے، کافی) اور مصنوعی جوسز سے گریز کریں، کیونکہ یہ جسم سے پانی کی مقدار کم کر دیتے ہیں۔
زیادہ نمکین، مرچ مصالحے والی اور چٹپٹی غذائیں بھی پیاس میں اضافہ کرتی ہیں، اس لیے ان سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔
سحری کا وقت اور اس کی اہمیت
سحری کرنے کا بہترین وقت فجر سے کچھ دیر پہلے کا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف سنت ہے بلکہ دیر سے سحری کرنے سے روزے کے دوران بھوک اور پیاس کے دورانیے میں کمی آتی ہے، جس سے روزہ رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔
گرمی اور دھوپ سے بچاؤ
رمضان میں سورج کی تپش سے بچنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ براہ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو چھتری یا سر کو ڈھانپنے کا اہتمام کریں تاکہ جسم سے پانی کم خارج ہو۔
یہ تمام احتیاطی تدابیر اپنانے سے آپ رمضان المبارک میں پیاس کی شدت کو کم کر سکتے ہیں اور صحت مند روزے گزار سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: روزے کے دوران پانی کی کمی کے لیے
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :