پی ٹی آئی کے اپوزیشن الائنس میں قیادت کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
پی ٹی آئی کے اپوزیشن الائنس میں قیادت کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 3 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)تحریک انصاف کے اپوزیشن الائنس میں قیادت کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، اسد قیصر کو اپوزیشن الائنس کی قیادت سونپے جانے پر علی امین گروپ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ علی امین کو اعتماد میں نہ لینے پر انہوں نے اعتراض اٹھایا، جس کے باعث جے یو آئی نے بھی اپوزیشن اتحاد میں باضابطہ شمولیت سے گریز کیا۔مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسد قیصر کی جانب سے سندھ کی سیاسی جماعتوں سے رابطوں کے بعد علی امین گنڈا پور نے خود ان جماعتوں سے ملنے کا فیصلہ کیا۔
علی امین گنڈاپور نے پیر پگارا سمیت سندھ کی دیگر جماعتوں سے ملاقاتوں کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم آخری وقت میں پلان میں تبدیلی کی وجہ سے علی امین تاحال کسی بھی ملاقات کا حصہ نہیں بن سکے۔پارٹی ذرائع کے مطابق ان داخلی اختلافات کے باعث اپوزیشن الائنس کی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے، اور اس معاملے پر پارٹی قیادت کو سخت فیصلے لینے پڑ سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اپوزیشن الائنس معاملے پر
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔