ہم نے ریاست کے لئے اپنی سیاست قربان کر دی، ملکی مفاد میں فیصلے کئے گئے، وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ہم نے ریاست کے لئے اپنی سیاست قربان کر دی، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی مفاد میں فیصلے کئے گئے۔
اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 4 مارچ 2025ءکو مسلم لیگ (ن) کی مخلوط حکومت کا ایک سال مکمل ہو جائے گا، محمد شہباز شریف نے 4 مارچ 2024ءکو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک کی سمت کے حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں چل رہی تھیں، بہت سے لوگوں نے شرطیں لگا رکھی تھیں کہ معیشت نہیں سنبھلے گی، ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے، ایک سیاسی جماعت نے پاکستان کے خلاف آئی ایم ایف کو خطوط لکھے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ کچھ چیزیں سیاست سے بالاتر ہوتی ہیں، ہم نے ریاست کے لئے اپنی سیاست قربان کر دی، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی مفاد میں فیصلے کئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ آج مہنگائی 1.
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ خارجہ محاذ پر پی ٹی آئی دور حکومت میں پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار تھا، وزیراعظم کے دورہ ازبکستان کے موقع پر پاکستان کا پرچم ہر شاہراہ پر دیکھا گیا، عالمی سطح پر پاکستان کے لئے اچھے جذبات اور تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے میچ ہو رہے ہیں، پاکستان میں ایک بار پھر کھیلوں کے میدان آباد ہو رہے ہیں، سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھ رہا ہے، آج ہر ملک پاکستان کی تعریف کر رہا ہے، مختلف ممالک کے سربراہان پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ آذربائیجان کے صدر نے پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا کہا، ازبکستان کے صدر نے پاکستان کی عالمی سطح پر منفرد حیثیت کو تسلیم کیا، معاشی بحالی کے سفر میں محنت، ٹیم ورک اور ایس آئی ایف سی کا اہم کردار ہے، چیف آف آرمی اسٹاف عاصم منیر کا معاشی بحالی کے سفر میں کردار قابل ستائش ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ محنت، نیک نیتی اور ٹیم ورک کی وجہ سے آج ہم اس مقام پر پہنچے ہیں، مہنگائی میں کمی کے اثرات عوام تک پہنچنا شروع ہو رہے ہیں، وزیراعظم نے ایک سال کی تکمیل پر کابینہ کی خصوصی پراگریس ریویو رکھا ہے، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ سرپلس میں جا رہا ہے، آئی ٹی برآمدات میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے، برآمدات بڑھ رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام معاشی اشاریئے مثبت ہیں، کھوکھلے نعرے لگانے والے لوگوں نے نہ لیپ ٹاپ دیئے، نہ ہسپتال بنائے، نہ صحت، نہ تعلیم کا کوئی نظام بنایا، انہوں نے بسیں بھی چلائیں تو الٹی چلا دیں، خیبر پختونخوا میں ان کی کارکردگی صفر ہے، اعداد و شمار کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کھوکھلے نعرے، جھوٹ بہتان اور آپس کی لڑائیاں کوئی نہیں چاہتا، پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ مہنگائی کیسے کم ہوگی، آج نظر آ رہا ہے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے، بہتری آ رہی ہے، جلاﺅ گھیراﺅ کی سیاست میں لوگوں کو کوئی دلچسپی نہیں۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ معاشی اشاریئے مزید بہتر ہوئے ہیں، کل وزیراعظم تمام حقائق قوم کے سامنے رکھیں گے، اعداد و شمار کبھی جھوٹ نہیں بولتے، کھوکھلے نعرے، جھوٹ بہتان اور آپس کی لڑائیاں کوئی نہیں چاہتا، پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ مہنگائی کیسے کم ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ آج نظر آ رہا ہے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے، بہتری آ رہی ہے، جلاﺅ گھیراﺅ کی سیاست میں لوگوں کو کوئی دلچسپی نہیں، معاشی اشاریئے مزید بہتر ہوئے ہیں، کل وزیراعظم تمام حقائق قوم کے سامنے رکھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ وزیر اطلاعات پاکستان کے کہ مہنگائی نے کہا کہ انہوں نے رہے ہیں رہا ہے رہی ہے کے لئے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔