وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ 9 مئی کے سانحہ میں ملوث ملزمان کے خلاف شواہد موجود تھے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے تمام ضروری معلومات اکٹھی کی گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ ان واقعات میں کون ملوث تھا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےوزیر ِاطلاعات نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں بانی پی ٹی آئی نے اپنے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کہنا کہ "ہم ریاست مدینہ کی بات کر رہے تھے، اس لیے سزا ہو گئی" ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کا تعلق مذہب یا ریاست مدینہ سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک کرپشن کا کیس ہے جس میں شواہد کے مطابق کارروائی کی گئی ہے۔عطاء اللہ تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا حق ہے کہ وہ مہم چلائیں، لیکن انہیں یہ قوم کو بتانا چاہیے کہ ان کے والد کو 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا ہوئی ہے۔ وہ جہاں جا رہے ہیں، وہاں لوگوں کو بتائیں کہ ہمارے والد کو 190 ملین پاونڈ کرپشن کیس میں سزا ہوئی ، وہ جس سے بھی ملیں تو یہ بتائیں کہ سیاسی نہیں بلکہ کرپشن کا کیس ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس ایک سیاسی کیس ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک کرپشن کیس ہے جس میں تمام شواہد موجود ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ملین پاؤنڈ کرپشن کیس کیس میں کیس ہے

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف