اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینیئر سیاستدان شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان بار بار گمراہ ہو جاتے ہیں ہر چیز کی حد ہوتی ہے۔

حال ہی میں شیر افضل مروت نے صحافی ارشاد بھٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کے لیے مہم شروع کی تو میڈیا نے انہیں ہیرو بنایا اور الیکشن میں ان کی محنت اور لوگوں کی عمران خان سے محبت کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہاں تک سب کچھ ٹھیک تھا لیکن اس کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت باہر آ گئی اور 11 اپریل کو انہیں سب سے پہلے فوکل پرسن کے منصب سے ہٹوایا اور اس کے بعد پی ٹی آئی کے لوگوں نے بیانیہ بنایا کہ میں اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہوں اور یہی لوگ انہیں پارٹی سے نکالے جانے کا سبب بنے ہیں۔

شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ ان سے لاکھوں لوگوں نے حلف لیا تھا کہ عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑنا اور ’میں نے عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑا بلکہ وہ مجھے بار بار نکال رہے ہیں۔ عمران خان بار بار گمراہ ہو جاتا ہے حد ہوتی ہے ایک چیز کی کوئی وجہ تو بتا دیں‘۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر پاکستان تحریک انصاف نے شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکال دیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

شیر افضل مروت نے پاکستان تحریک انصاف سے نکالے جانے پر معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، انہوں نے کہاکہ پارٹی سے نکالنے سے قبل مجھے سنا نہیں گیا، تاہم پھر بھی فیصلے کو تسلیم کرتا ہوں اور 3 ماہ تک پارٹی کی کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لوں گا۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کو لیڈر مانتا ہوں، اگر انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا کہا تو حکم پر لبیک کہوں گا لیکن میں یہ ان کے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔
مزیدپڑھیں:وفاقی کابینہ میں توسیع: کچھ وزیروں کے پاس نصف درجن وزارتیں اور بعض کے پاس ایک بھی نہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: شیر افضل مروت پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم

دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو: 
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
 
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا