Islam Times:
2026-06-02@23:07:00 GMT

بن سلمان کو زیلنسکی کی تذلیل سے عبرت حاصل کرنیکا مشورہ

اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT

بن سلمان کو زیلنسکی کی تذلیل سے عبرت حاصل کرنیکا مشورہ

اسلام ٹائمز: یمنی تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن محمد فرح نے ورچوئل نیٹ ورک ایکس (سابقہ ​​ٹویٹر) پر سعودی حکام کے نام ایک پیغام میں لکھا ہے کہ "کیا آپ نے دیکھا کہ امریکہ نے مشرقی یورپ میں اپنے ایک اتحادی اور کرائے کے فوجی کے ساتھ کیا سلوک کیا، جو کہ ایک یہودی ایجنٹ تھا، اور امریکیوں نے کس طرح یوکرین سے سب کچھ واپس لے لیا؟" اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آپ کی جائیداد اور اثاثے جو آپ نے امریکی بینکوں میں جمع کر رکھے ہیں وہ محفوظ رہیں گے؟ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ امریکی آپ سے منہ نہیں موڑیں گے اور آپ کے رویوں کی مذمت نہیں کریں گے؟ جیسا کہ انہوں نے یوکرینیوں کے ساتھ کیا ۔" جب وہ اپنے پیاروں کے ساتھ حقارت اور توہین کا برتاؤ کرتے ہیں تو وہ ان لوگوں سے کیسا سلوک کریں گے جن سے وہ نفرت کرتے ہیں، یعنی عربوں اور مسلمانوں سے؟ ترتیب و تنظیم: علی احمدی

یمنی تحریک کے سیاسی بیورو کے ایک رکن نے سعودی حکام کے نام پیغام میں وائٹ ہاؤس میں "ولادیمیر زیلنسکی" کی تذلیل سے عبرت حاصل کرنے کا کہا ہے۔ 2015 میں شروع ہونے والی جنگ کو یمنی انصار اللہ اور سعودی اتحاد کے درمیان ایک پیچیدہ تنازعہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس جنگ میں سعودی قیادت میں متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک مشتمل اتحاد نے"منصور ہادی" کی سربراہی میں یمنی حکومت کے دفاع کا بہانہ بنا کر یمن میں مداخلت کا آغاز کیا تھا۔ اس سے پہلے حوثی یمنیوں نے ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر کے اسے آزاد کرایا اور ہادی حکومت کو بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔ اس کارروائی کے جواب میں سعودی حکومت نے ملک میں منصور ہادی کٹھ پتلی حکومت کی خودمختاری بحال کرنے کے لیے محصور یمن پر فضائی اور زمینی حملے شروع کر دیے تھے۔

اس دوران صیہونی حکومت، امریکہ اور بعض دوسرے ممالک نے بھی سعودیوں کی کھلے اور ڈھکے چھپے مدد کی۔ ابتدائی طور پر یہ پیشین گوئیاں تھیں کہ سعودی اتحاد اس جنگ کو اپنے حق میں جلد ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ تاہم انصار اللہ نے موثر حکمت عملی اور یمن کی جغرافیائی صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے فضائی اور زمینی حملوں کا مقابلہ کرتے ہوئے کامیابیاں حاصل کیں اور بتدریج عسکری اور اقتصادی پیش رفت سے تجزیہ نگاروں کو حیران کر دیا۔ سعودی حکومت اور اس کے اتحاد  کے لئے سب سے بڑا جھٹکا سعودیہ کے اقتصادی اور فوجی انفراسٹرکچر پر انصار اللہ کے میزائل اور ڈرون حملے تھے۔ ان حملوں، خاص طور پر ستمبر 2019 میں آرامکو کی تیل تنصیبات پر حملے نے سعودی معیشت پر بڑا اثر ڈالا اور یہ ثابت ہوا کہ انصار اللہ سعودی معیشت کے اہم شعبوں کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ یمن کی سعودی سرحد پر ہونے والی لڑائیوں میں بھی سعودی حکومت کا بھاری فوجی جانی نقصان ہوا، جس سے جنگ کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ اس دوران آل سعود نے حتی الامکان خود کو امریکی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ امریکہ پر اعتماد کے بارے میں انصار اللہ نے محمد بن سلمان کو وارنگ جاری کی ہے اور یوکرینی صدر کی تذلیل سے عبرت حآصل کرنیکا مشورہ دیا ہے۔ ان جنگوں میں انصار اللہ کی عسکری طاقت اور حکمت عملیوں کے بارے میں جو کچھ دیکھا گیا ہے اور ان کی دھمکیوں کے سچے ہونے کے موجودہ شواہد کو دیکھتے ہوئے، ان انتباہات کو ایک حقیقی اور اہم خطرہ سمجھا جانا چاہیے۔ امریکہ پر سعودی حکومت کے جھوٹے اعتماد کے بارے میں انصار اللہ کے انتباہات کی بھی کافی ثبوتوں سے تصدیق ہوتی ہے۔

جیسا کہ یمن کی انصار اللہ تحریک کے رہنماوں میں سے ایک نے سعودی حکام کے نام ایک پیغام میں ان سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے واقعات اور وہاں "ولادیمیر زیلنسکی" کی تذلیل سے سبق سیکھنے کو کہا ہے۔ یمنی تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن محمد فرح نے ورچوئل نیٹ ورک ایکس (سابقہ ​​ٹویٹر) پر سعودی حکام کے نام ایک پیغام میں لکھا ہے کہ "کیا آپ نے دیکھا کہ امریکہ نے مشرقی یورپ میں اپنے ایک اتحادی اور کرائے کے فوجی کے ساتھ کیا سلوک کیا، جو کہ ایک یہودی ایجنٹ تھا، اور امریکیوں نے کس طرح یوکرین سے سب کچھ واپس لے لیا؟" اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آپ کی جائیداد اور اثاثے جو آپ نے امریکی بینکوں میں جمع کر رکھے ہیں وہ محفوظ رہیں گے؟ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ امریکی آپ سے منہ نہیں موڑیں گے اور آپ کے رویوں کی مذمت نہیں کریں گے؟ جیسا کہ انہوں نے یوکرینیوں کے ساتھ کیا ۔"

 انصار اللہ یمن کے اس سینئر رکن نے زور دے کر کہا ہے کہ جب وہ اپنے پیاروں کے ساتھ حقارت اور توہین کا برتاؤ کرتے ہیں تو وہ ان لوگوں سے کیسا سلوک کریں گے جن سے وہ نفرت کرتے ہیں، یعنی عربوں اور مسلمانوں سے؟ زیلنسکی کی قیادت میں یوکرین امریکی حمایت کے سراب میں مبتلا ہو کر جنگ ​​کے گڑھے میں گرا، یہی حشر یمن اور انصار اللہ کے خلاف لڑنے والوں کا بھی ہوگا۔ واضح رہے کہ 1932 میں وجود میں آنیوالی سعودی رجیم کے آج تک امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں، سعودی اقتصاد اور سلامتی کا انحصار امریکہ پر ہے، سعودیہ تیل کی فروخت، مغرب کو توانائی کی فراہمی اور تیل پیدا کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہونے کے طور پر امریکہ کے لیے ہمیشہ ایک اہم شراکت دار رہا ہے۔ تیل کے بدلے امریکہ نے سعودیوں کو جدید ترین فوجی سازوسامان اور سیکورٹی کے نام پر مدد فراہم کی ہے۔

یہ تعلقات حالیہ دہائیوں میں سعودیوں کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت سے مزید وسیع ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور پر صرف 2017 میں سعودیوں نے امریکہ سے جدید ہتھیار خریدنے کے لیے $110 بلین کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ امریکہ پر یہ فوجی انحصار سعودی حکومت کو خطے میں اپنی فوجی طاقت سے استفادہ کا باعث بنا۔ خاص طور پر یمن کی جنگ اور شام کی بغاوت میں جہاں امریکہ سعودی اتحاد کا بالواسطہ حامی رہا ہے۔ یقیناً ہم نے اس ’’طاقت کے آسان استعمال‘‘ کے نتائج دیکھے ہیں۔ لیکن وہیں پر یہ یک طرفہ رشتہ ہے۔ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے بارے میں امریکی پالیسیاں اقتصادی اور عسکری تعلقات پر اثرانداز ہوئی ہیں۔ سعودی حکومت کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر ضرورت پڑی تو یہ ایشوز ہتھوڑے میں تبدیل ہو جائیں گے جو  دودھ دینے والی عرب گائے کا سر توڑ دیں گے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ماہ قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے فون پر بات کی تھی، جس  دوران بن سلمان نے مملکت کے اگلے چار سالوں میں امریکا کے ساتھ تجارت بڑھانے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ بن سلمان نے اس سرمایہ کاری کی رقم 600 بلین ڈالر اور ممکنہ طور پر اس سے زیادہ ہونے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ریاض 500 بلین ڈالر کی امریکی مصنوعات خریدنے پر راضی ہو جائے، تو یہ ملک ان کی پہلے غیر ملکی سفر کی منزل ہو سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران، سعودی عرب ان کے غیر ملکی دوروں کی پہلی منزل تھا، اور اس دوران دونوں ممالک نے تقریباً 400 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے کئی معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ بس امریکہ کی دوستی کا مقصد صرف یہی ہے، یعنی 400 بلین سے 600 بلین کمانا اور ہضم کر جانا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سعودی حکام کے نام سعودی حکومت کے بارے میں کے ساتھ کیا کی تذلیل سے انصار اللہ امریکہ پر پیغام میں کرتے ہیں تحریک کے کریں گے یمن کی

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان