لاہور ہائیکورٹ کے نئے تعینات ہونیوالے 4 ایڈیشنل ججز کی حلف برداری آج ہو گی
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ میں نئے تعینات ہونے والے 4 ایڈیشنل ججز آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نئے ایڈیشنل ججز سے ان کے عہدوں کا حلف لیں گی۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور ہائیکورٹ کے نئے تعینات ہونے والے 4 ایڈیشنل ججز کی حلف برداری کی تقریب آج ہو گی۔ نئے تعینات ہونے والے 4 ایڈیشنل ججز کل اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نئے ایڈیشنل ججز سے ان کے عہدوں کا حلف لیں گی۔ نئے ایڈیشنل ججز کی حلف برداری تقریب کل صبح 11 بجے ہوگی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز راجہ غضنفر علی خان، تنویر احمد شیخ، طارق محمود باجوہ اور عبہر گل خان بطور ایڈیشنل جج لاہور ہائیکورٹ حلف اٹھائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ ایڈیشنل ججز نئے تعینات کا حلف
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔