سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے کینٹ میں بزدلانہ دہشت گرد حملہ ناکام بنا کر 16 حملہ آوروں کو ہلاک کردیا جب کہ شدید جھڑپ کے دوران 5 بہادر فوجی مادرِ وطن پر قربان ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 4 مارچ  کو خوارج عناصر نے بنوں کینٹ پر بزدلانہ دہشت گرد حملے کی کوشش کی۔

بیان میں بتایا گیا کہ دہشت گردوں نے کینٹ کی سیکیورٹی کو توڑنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان کی مستعد اور بہادر سیکیورٹی فورسز نے ان کے ناپاک عزائم کو فوری اور فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ حملہ آوروں نے دو بارود سے بھری گاڑیاں حفاظتی دیوار سے ٹکرا دیں، پاک فوج کے جوانوں نے بے مثال جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کو نشانہ بنایا اور 16 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں 4 خودکش بمبار بھی شامل تھے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس شدید جھڑپ میں 5 بہادر فوجی مادرِ وطن پر قربان ہو گئے، خودکش دھماکوں کی وجہ سے حفاظتی دیوار کا کچھ حصہ منہدم ہو گیا، جس سے ملحقہ عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ بدقسمتی سے، ایک مسجد اور رہائشی عمارت بھی تباہ ہو گئی، جس کے نتیجے میں 13 بے گناہ شہری شہید جب کہ 32 زخمی ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق خفیہ اداروں کی تحقیقات میں واضح طور پر ثابت ہوا ہے کہ اس حملے میں افغان شہری براہِ راست ملوث تھے، شواہد سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی اور نگرانی افغانستان میں موجود خوارج کے سرغنہ کر رہے تھے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی، پاکستان اپنی سرحدوں کے پار سے ہونے والے ان خطرات کے جواب میں ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم پر قائم ہیں، ہمارے بہادر فوجیوں اور بے گناہ شہریوں کی قربانیاں ہمارے اس غیر متزلزل عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں، ہم اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے ہر قیمت چکانے کو تیار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاک فوج ایس پی

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار