سرکاری افسران کے لیے اچھی خبرآ گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
اعلی اختیاراتی سلیکشن بورڈ کے اجلاس میں کئی سرکاری افسران کو گریڈ 22 میں ترقی دیئے جانے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق اعلی اختیاراتی سلیکشن بورڈ کا اجلاس رواں ہفتے بلائے جانے کا امکان ہے ، وزیراعظم کی زیر صدارت بورڈ کا اجلاس آج یا کل متوقع ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے اعلی اختیاراتی بورڈ اجلاس کےلیے تیاریاں مکمل کرلی ہیں، گریڈ 21 سے 22 کے لیے 40 سے زائد آسامیوں پر ترقیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ غلام نبی میمن کو گریڈ22 میں ترقی دینےپرغورکیا جائے گا جبکہ سیکریٹری ٹووزیراعظم اسدالرحمن گیلانی کا کیس گریڈ 22 میں ترقی کے لیے پیش ہوگا۔ذرائع نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر راشد محمود اور سیکریٹری تعلیم و تربیت محی الدین احمد وانی کوگریڈ22 میں ترقی دئیے جانے کاامکان ہے۔اس کے علاوہ ایڈیشنل سیکریٹری انچارج پیٹرولیم ڈویژن مومن آغا ، چیف سیکرٹری پنجاب زائداختر زمان ، ارم بخاری، ساجد بلوچ، جودت ایاز اور ندیم محبوب کو گریڈ 22 میں ترقی دینے پر غور ہوگا۔
عنبرین رضا،عثمان اختر باجوہ،مصدق احمد خان،عطاء الرحمن ، پولیس سروس کےمحمدفاروق مظہراورآصف سیف اللہ پراچہ اور پولیس سروس کےاحمد مکرم اور عامر ذوالفقارخان ، پولیس سروس کےعمران یعقوب منہاس کے ناموں پرغور ہوگا جبکہ وسیم اجمل چوہدری، داود محمد اور شکیل احمد منگنیجو کے کیسز بھی زیرغور آئیں گے۔ہائی پاورڈسلیکشن بورڈکا آخری بار اجلاس مارچ 2023 میں ہوا تھا،اجلاس تاخیر کاشکار ہونے سے کئی سرکاری افسران ترقی کے بغیر ریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔