آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر اور پاکستانی ٹیم کے کوچ جیسن گلیسپی نے موجودہ ہیڈ کوچ عاقب جاوید کو مسخرا قرار دے دیا۔

عاقب جاوید کی جانب سے بیان کی گئی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی کی وجہ کے جواب میں جیسن گلیسپی کا کہنا تھا کہ عاقب جاوید ان سے کوچ کا عہدہ ہتھیانا چاہتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم اب 5 ٹی ٹوئنٹی اور 2 ون ڈے میچز کے لیے نیوزی لینڈ جائے گی۔ محمد رضوان اور بابر اعظم کو ٹی 20 اور شاہین آفریدی کو ایک روزہ انٹرنیشنل فارمیٹ سے ہٹا کر سلمان علی آغا کو ٹی 20 کا نیا کپتان اور شاداب خان کو نائب کپتان مقرر کرتے ہوئے چند بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران عاقب جاوید سے پاکستانی ٹیم کی تنزلی کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے گزشتہ ڈھائی سالوں میں 16 کوچز اور 26 سلیکٹرز کا تقرر کیا جس کی وجہ سے ملک میں کرکٹ کو نقصان پہنچا۔

عاقب جاود نے کہا کہ ہمارے نظام میں آپ کبھی بھی کسی کو مکمل طور پر مسترد نہیں کر سکتے اور ہم ایک نئے انداز اور ذہنیت کو تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تجربہ کار کھلاڑیوں کا مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہے‘۔

عاقب جاوید سے پہلے گیری کرسٹن کو وائٹ بال کا کوچ مقرر کیا گیا تھا جب کہ جیسن گلیسپی کو بہت دھوم دھام سے ٹیسٹ کوچ نامزد کیا گیا تھا۔ گلیسپی اور کرسٹن دونوں کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 سے قبل 2 سال کے معاہدے پر تعینات کیا گیا تھا اور پی سی بی نے پاکستان ٹیم کے لیے ایک نئے دور کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم گیری کرسٹن نے T20 ورلڈ کپ کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا اور گلیسپی کو اس وقت برطرف کر دیا گیا تھا جب انہوں نے اپنے معاہدے اور تنخواہ کے ڈھانچے میں مناسب تبدیلی کے بغیر آل فارمیٹ کوچ کا کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

دریں اثنا عاقب کے کوچ کی تبدیلیوں کے بارے میں بیان نے جیسن گلیسپی کی طرف سے ایک تمسخرانہ ردعمل آیا جنہوں نے سوشل میڈیا پر عاقب جاوید کو ایک مسخرہ کہا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ گیری کرسٹن اور ان کو پاکستان ٹیم کے کوچز کی پوزیشنز سے ہٹوانا چاہتے ہیں۔

جیسن گلیسپی نے کہا کہ عاقب جاوید تمام فارمیٹس کے کوچ بننے کی خاطر میرے اور گیری کرسٹن اور مجھے نیچا دکھا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان کرکٹ ٹیم جیسن گلیسپی عاقب جاوید عاقب جاوید پر تنقید عاقب جاوید کا تمسخر گیری کرسٹن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان کرکٹ ٹیم جیسن گلیسپی عاقب جاوید عاقب جاوید پر تنقید عاقب جاوید کا تمسخر گیری کرسٹن پاکستانی ٹیم جیسن گلیسپی گیری کرسٹن عاقب جاوید گیا تھا کے کوچ

پڑھیں:

ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن

پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔

’ورلڈ کپ 2027 کے لیے ٹیم کی تیاری: پاکستانی وکٹیں موزوں ہیں‘

انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.

Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…

— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026

ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔

مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن

انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔

مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف