Islam Times:
2026-06-03@04:47:22 GMT

حکومت کا معیشت کے استحکام کا دعویٰ جھوٹا ہے، عمر ایوب

اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT

حکومت کا معیشت کے استحکام کا دعویٰ جھوٹا ہے، عمر ایوب

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور راہنما تحریک انصاف کا پی ٹی آئی راہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں استحکام آیا ہے، کہتے ہیں معیشت میں استحکام آیا ہے وہ کہاں ہے ہمیں نظر نہیں آتا۔؟ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت بد حالی کا شکار ہو چکا ہے، گندم کی کاشت اور پیداوار میں بحران کا سامنا ہے، معیشت کا پہیہ مکمل جام ہے۔ اسلام ٹائمز۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور راہنما تحریک انصاف عمر ایوب نے کہا ہے کہ حکومت کا معیشت کے استحکام کا دعویٰ جھوٹا ہے۔سلمان اکرم راجہ، شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمرایوب کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں استحکام آیا ہے، کہتے ہیں معیشت میں استحکام آیا ہے وہ کہاں ہے ہمیں نظر نہیں آتا۔؟ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت بد حالی کا شکار ہو چکا ہے، گندم کی کاشت اور پیداوار میں بحران کا سامنا ہے، معیشت کا پہیہ مکمل جام ہے، انڈسٹریاں بالکل بند ہیں، زراعت اس وقت مشکل ترین وقت سے گزر رہی ہے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ اس وقت آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر بہت پیچھے رہ گیا ہے، سروس نہیں مل رہی، معیشت سکڑ چکی اور بد ترین حالات سے گزر رہی ہے، روپے کی قیمت میں کمی آنے سے 120 ارب روپے کا قرض اضافی چڑھا، 2930 ارب روپے کے قرضے ری شیڈول کیے گئے۔ عمر ایوب کا مزید کہنا تھا کہ جب یہ قرض ادا کرنا ہوگا اس کی قیمت پاکستانیوں کو ادا کرنا ہو گا، 14 سو ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے صرف 92 ارب خرچ ہوا، 3 ماہ باقی ہیں ابھی تک صرف 8 فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ ہوا۔

سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں معیشت کا برا حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پر 200 کے قریب مقدمات بنائے گئے، 26 نومبر کو جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہے، تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں عمران خان کو کسی ڈیل نہیں آئین و قانون کےذریعے باہرنکالیں، ہمارا ہر لمحہ بانی کی رہائی کی کوششیں ہیں۔

سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ نے پاکستان کی معیشت کو گروی رکھا، جن اداروں میں نقصانات کم ہیں ان کو بیچ رہے ہیں، جہاں ان کے مفادات کو نقصان ہو وہ اس پر قانون سازی کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر کو ہی لے لیں، انہوں نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، دوسری جانب سینیٹ میں خیبرپختونخوا کی نمائندگی ہی نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں استحکام آیا ہے انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ ملک کہنا تھا کہ

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا