عید سے قبل لیاری گینگ وار کارندوں کی بھتہ خوری ،وارداتیں شروع
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
نیو کراچی میں دکانداروں سے بھتہ طلب کرنے میں لیاری گنگ وار ملوث
تاجرکوبھتے کی پرچی کے ساتھ نائن ایم ایم پستول کی2گولیاں بھی بھیجی گئیں
شہر قائد میں لیاری گینگ وار کے کارندے ایک بار پھر متحرک ہو گئے اور انہوں نے بھتہ خوری سمیت دیگر وارداتیں کرنا شروع کردی ہیں۔رمضان المبارک میں اورعید کی آمد سے قبل لیاری گینگ وار کے کارندوں نے اولڈ سٹی ایریا سے نکل کرشہر کے دیگرعلاقوں میں وارداتیں کرنا شروع کردی ہیں۔ نیو کراچی میں دکانداروں سے بھتہ طلب کرنے میں لیاری گینگ وارکے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔پولیس کی ناقص کارکردگی کے باعث شہر قائد میں لیاری گینگ وارکی بھتہ خوری کی وارداتوں میں اضافہ ہونے لگا۔ منگل کے روز نیو کراچی میں دکانداروں سے بھتہ طلب کرنے میں لیاری گینگ وار کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ واقعے کا مقدمہ نیو کراچی تھانے میں متاثرہ تاجر کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے ۔مقدمہ بھتہ خوری،جان سے مارنے کی دھمکی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ مدعی مقدمہ کے مطابق ان کا نیو کراچی سیکٹر 11 ڈی میں کنفیشنری کا کاروبار ہے ، جہاں دیگردکانیں اورکیبن بھی قائم ہیں۔ منگل کی رات 9 بجے موٹر سائیکل پر2 مسلح ملزمان آئے اورسب سے ایک ایک لاکھ روپے بھتہ طلب کیا۔مدعی مقدمہ کے مطابق ہم نے بھتہ خوروں کو کہا کہ چھوٹے دکاندارہیں، اتنے پیسے نہیں ہیں ہمارے پاس، جس پر بھتہ خوروں نے فائرنگ کردی اور گاہک کے ساتھ آنے والا 3 سالہ کمسن بچہ تیمورعلی ولد نبیل ٹانگ پر گولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔ فائرنگ کرنے کے بعد ملزمان موقع سے باآسانی فرار ہوگئے ۔بعد ازاں پولیس پہنچی اورموقع سے ایک 9 ایم ایم پستول کی گولی کا سکہ قبضے میں لیا۔مدعی نے بتایا کہ رات 10بجے میرے اور دیگر دکانداروں کے نمبروں پر دوبارہ بھتے کے پیغامات موصول ہوئے ۔ بھتہ خوروں نے 10 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور نہ دینے پرجان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث بھتہ خوروں کا تعلق لیاری گینگ وار سے ہے ۔ واقعے کا مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے ۔ واقعے کی تفتیش اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ منتقل کردی گئی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔