ویب ڈیسک:پی بی 45 میں مبینہ دھاندلی کے الزام میں پیپلز پارٹی کے فاتح امیدوار علی مدد جتک کے خلاف الیکشن کمیشن نے دو امیدواروں کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ان کی رکنیت بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پی بی 45 میں ری پولنگ میں مبینہ دھاندلی کے معاملے میں  الیکشن کمیشن نے محفوظ شدہ فیصلہ سنادیا، الیکشن کمیشن نے جے یو آئی (ف) کے امیدوار میر محمد عثمان پیرکانی کی درخواست مسترد کردی۔

پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل افتخار احمد سروہی انتقال کر گئے

پی بی 45 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار علی مدد جتک کامیاب قرار پائے تھے ان کے خلاف نصراللہ بڑیچ کی درخواست بھی مسترد ہوگئی، الیکشن کمیشن نے دونوں درخواست گزاروں کو الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ  انتخابات کے نتائج مرتب کرنے میں بے ضابطگیوں سے متعلق متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے، انتخابی عذرداریوں سے متعلق الیکشن ٹریبیونلز موجود ہیں۔

امیدوار نصراللہ بڑیچ نے 15 جنوری کو 15 پولنگ اسٹیشن پر ری پولنگ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دی تھی اسی طرح عثمان پیرکانی نے پی بی 45 کے نتائج مرتب کرنے کے عمل کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی۔

تکنیکی اور آپریشنل وجوہات کے باعث متعدد پروازیں منسوخ

 
 

 
 

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن نے کی درخواست کے خلاف پی بی 45

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن