آسٹریلیا؛ جہاز میں سوار ہونے والا مسلح شخص کو مسافروں اور پائلٹ نے پکڑ لیا، ایئرپورٹ بند
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
VICTORIA, AUSTRALIA:
آسٹریلیا کے ایوالون ایئرپورٹ پر مسلح شخص کی جہاز میں سوار ہونے کی کوشش مسافروں اور پائلٹ نے ناکام بناتے ہوئے پکڑ لیا اور اس کے نتیجے میں ایئرپورٹ کو بند کردیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص نے ورکر کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور سڈنی جانے والی پرواز جے کیو 640 پر سوار ہونے کے لیے داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا تو مسافروں اور پائلٹ نے پکڑ لیا۔
وکٹوریا پولیس نے مشتبہ شخص کو جائے وقوع سے گرفتار کرلیا اور گرفتاری کے دوران کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس افسران مشتبہ شخص کو لے کر جا رہے ہیں، جو ورکر کے لباس میں ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by 7NEWS Australia (@7newsaustralia)
مقامی میڈیا نے بتایا کہ مشتبہ شخص طیارے میں ایئرلائن کے ٹیکنیشن کے بھیس میں سوار ہوا تھا اور اس کے پاس چھری اور ایک شاٹ گن موجود تھی۔
عینی شاہد بیکر نے بتایا کہ جس مسافروں نے محسوس کیا کہ مذکورہ شخص مسلح ہے تو انہوں نے پائلٹ کی مدد سے اس سے زمین پر گرایا۔
مسلح شخص کو گرفتار کروانے میں مدد کرنے والے مسافر بیری کلارک کا کہنا تھا کہ مشتبہ شخص ٹیکنیشن کے لباس میں داخل ہوا تھا، جیسے ہی وہ داخل ہوا تو ایئرہوسٹس ان سے سوال کر رہی تھیں تو اسی دوران وہ غصے میں آگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہونے تک ایک شاٹ گن نکال لیا تھا تو میں نے ایئرہوسٹس کو راستے سے ہٹا دیا اور مشتبہ شخص کے ہاتھ سے گن چھین کر توڑ دیا اور سیڑھیوں کی طرف پھینک دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد میں نے اس کو پکڑا اور اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا، اتنے میں پولیس آگئی۔
وکٹوریا پولیس نے واقعے کی تصدیق کی کہ آتشیں اسلحے سے لیس شخس کی کمرشل فلائٹ میں داخل ہونے کی کوششوں کی خبر کے بعد افسران کو ایوالون ایئرپورٹ پر طلب کرلیا گیا تھا۔
View this post on InstagramA post shared by The Project (@theprojecttv)
پولیس نے بیان میں کہا کہ مشتبہ شخص کو جہاز میں بیٹھنے سے قبل ہی گرفتار کرلیا گیا اور پولیس طلب کرلی گئی تھی اور افسران نے کارروائی کرتے ہوئے مشتہ شخص کو حراست میں لے لیا۔
بیان میں کہا گیا کہ خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا تاہم واقعے کی تفتیش جاری ہے۔
ایوالون ایئرپورٹ کے سی ای او ایری سوس نے بھی واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ تاحکم ثانی ایئرپورٹ کو مسافروں کے لیے بند کردیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت صورت حال کی تفتیش کر رہے ہیں اور اولین ترجیح مسافروں اور ہمارے عملے کی سلامتی ہے۔
جیسٹار نے تصدیق کی کہ یہ سیکیورٹی خلاف ورزی ہے لیکن تفتیش کے حوالے سے تمام ذمہ داری وکٹوریا پولیس اور ایوالون ایئرپورٹ کے عہدیداروں پر ڈال دی۔
قبل ازیں گزشتہ ہفتے آسٹریلیا کے شمال مغربی وکٹوریا میں ملڈورا ایئرپورٹ پر پائلٹ کی غلطی سے کوئنٹاس لنک طیارہ پرواز بھرنے کے دوران رن وے کی لائٹس سے ٹکرا گیا تھا۔
بعد ازاں تفتیش کے دوران پائلٹ کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا جس میں ممنوعہ ادویات لینے سے متعلق ان کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور اس کے بعد طیارے کے دونوں پائلٹس کو سیفٹی ریگیولیٹرز اور ایئرلائن دونوں کے سامنے تفتیش کے پیش کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسافروں اور ہونے کی شخص کو
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔