Express News:
2025-04-25@11:33:21 GMT

ٹرمپ کی پالیسیاں اور عالمی تجارتی جنگ

اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی شراکت داروں پر ٹیرف لگانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مستقبل میں بھی مزید محصولات عائد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، یوں امریکا کی جانب سے کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد اضافی ٹیکس کا نفاذ ہوگیا ہے، جس کے ساتھ ہی چین سے درآمد کی جانے والی اشیا پر بھی اضافی رقوم کا اطلاق شروع ہو گیا ہے، جس کے جواب میں تینوں ممالک نے فوری اور سخت ردعمل دیا ۔

 امریکی صدر ٹرمپ اگر ایسی ہی پالیسیوں پر گامزن رہے تو اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت کی روانی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت ذرا مختلف ہے۔ وہ اس بار پہلے سے زیادہ منظم ہیں اور انھوں نے اپنی ٹیم کو ایسے عہدوں پر تعینات کر دیا ہے جہاں وہ ان کے ایجنڈے پر مؤثر طریقے سے عمل کر سکیں جس میں ان کی تباہ کن خواہشات بھی شامل ہیں۔

اسی لیے ایک ماہ کی معطلی کے بعد کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فی صد محصولات عائد کیے جا چکے ہیں جب کہ چین پر بھی اضافی ٹیکس لگا کر مجموعی طور پر محصول کو 20 فی صد کر دیا گیا، یہ محصولات درآمد کنندگان، بندرگاہوں اور سرحدی گزرگاہوں پر ادا کرتے ہیں۔ نظریہ یہ ہے کہ یہ ٹیکس مقامی صنعتوں کو تحفظ فراہم کریں گے لیکن عملی طور پر معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ یہ محصولات 918 ارب ڈالر کی امریکی درآمدات پر لاگو ہوں گے، جس سے ایواکاڈو سے لے کر امریکی گھروں کی تعمیر کے لیے ضروری لکڑی تک، سب کچھ متاثر ہوگا۔ اضافی محصولات کے نفاذ کے باعث امریکی، یورپی اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

تجارتی جنگ کے بڑھنے سے عالمی منڈیوں میں مندی دیکھی گئی۔ وال اسٹریٹ کے بڑے انڈیکس ایس اینڈ پی 500 میں تیزی سے کمی آئی، جس سے ٹرمپ کے انتخاب کے بعد ہونے والے تمام فوائد مٹ گئے۔ امریکا کے لیے کینیڈا ایک اچھا فراہم کنندہ ہے کیونکہ وہ بالکل پڑوس میں ہے اور اس کا ایک قابل اعتماد اتحادی بھی ہے بلکہ تھا۔ اس کا ناگزیر نتیجہ یہ نکلے گا کہ امریکا میں تیل اور بجلی مزید مہنگی ہو جائے گی۔ جب کاروبار کو بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا ہوتا ہے تو ان کے پاس دو راستے ہوتے ہیں یا تو وہ خود اس بوجھ کو برداشت کریں یا اسے صارفین تک منتقل کر دیں یعنی عام امریکی شہری تک۔ نئی صورت حال میں زیادہ تر کاروباری طبقے دوسرا راستہ اپنانا پسند کریں گے۔

محصولات (ٹیرف) کے بارے میں کوئی بحث نہیں۔ یہ مہنگائی میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو مرکزی بینک کا اگلا قدم کیا ہوتا ہے؟ وہ شرحِ سود میں اضافہ کرتے ہیں، جس سے گھریلو اورکاروباری قرض لینے والے متاثر ہوتے ہیں اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ ٹرمپ کے اس فیصلے سے امریکا کی بطور اچھے تجارتی شراکت دار ساکھ بھی متاثر ہوگی کیونکہ ممکن ہے کہ تجارتی راستے کسی اور سمت مڑ جائیں۔ اس بات کے کچھ شواہد موجود ہیں کہ گزشتہ بار بھی ایسا ہوا تھا۔ٹرمپ کی اس پالیسی کا دوسرا مقصد ملکی آمدنی میں اضافہ ہے۔

امریکا کا قرض اب جی ڈی پی کے 124 فی صد تک پہنچ چکا ہے جب کہ برطانیہ کا قرض اس کے جی ڈی پی کے 95 فی صد سے کچھ زیادہ ہے۔ دراصل آمدنی بڑھانے کا اس سے زیادہ تباہ کن طریقہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ محصولات لگا کر معیشت کو مزید نقصان پہنچایا جائے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت دنیا کو حیران کردیا، جب اس نے غزہ پر قبضہ کر کے اسے امریکا کی ملکیت بنانے اور غزہ کے بائیس لاکھ باسیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرکے اردن اور مصر میں بسانے کا اعلان کیا۔

مصر، اردن اور عرب ممالک کے علاوہ یورپین ممالک نے بھی اس منصوبے کو نسل پرستانہ قرار دیا ہے جو علاقے میں مزید تباہی، انتہا پسندی اور عدم استحکام کو جنم دے گا۔ ٹرمپ کے مطابق وہ اردن اور مصر کو ہر سال اربوں ڈالرز دیتے ہیں اور اگر انھوں نے فلسطینیوں کواپنے ہاں آباد نہ کیا تو وہ یہ امداد بند کر دیں گے۔ گزشتہ سال ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے غزہ کو شہریوں سے خالی کر کے ’’واٹر فرنٹ پراپرٹی‘‘ کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز دی تھی۔ بین الاقوامی ماہرین ٹرمپ کی دھونس اور دھمکیوں کی پالیسیوں کو ہٹلر کی حکمت عملی سے مماثل قرار دے رہے ہیں۔

دنیا کی سپر طاقت امریکا کے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں نے عالمی سطح پر کشیدگی پیدا کر دی ہے اور ممالک اپنی خود مختاری کو برقرار رکھنے کی فکر میں متبادل طریقوں پر غورکر رہے ہیں، دنیا کے کئی ممالک میں ڈالرز کے بجائے اپنی مقامی کرنسیوں میں تجارت کا عمل کچھ سالوں سے بڑھا ہے، سب سے پہلے چین نے دیگر ممالک کے ساتھ اپنی کرنسی یو این میں تجارت شروع کی، چین نے اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مقامی کرنسی میں تجارت کرنے کی پالیسی اس وقت اختیار کی جب امریکا کی مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ ہو رہا تھا، لہذا یورپ نے بھی اسی سمت میں قدم بڑھایا اور یورپی یونین نے یورو کو عالمی تجارت میں ایک مضبوط کرنسی کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، تاہم یہ رجحان تیزی سے مقبول ہوا اور کئی ممالک نے اپنی مقامی کرنسیوں میں تجارتی معاہدے کیے تاکہ ڈالرز پر انحصار کم کیا جاسکے۔

دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی معیشتوں پر مشتمل برکس گروپ جن میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ ہیں، یہ گروپ اقتصادی، سیاسی، اور تجارتی تعاون کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے، اور عالمی سطح پر ڈالر کے بجائے متبادل مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینے کی کوشش میں مصروف عمل ہے، امریکی صدر ٹرمپ کو صدارت سنبھالنے کے بعد جب بھی موقع ملا، وہ برکس ممالک کو بھاری ٹیرف عائد کرنے سے ڈراتے دھمکاتے رہے ہیں، وہ برکس ممالک سمیت کسی بھی بڑھتی ہوئی طاقت سے پریشان ہیں انھیں ڈر ہے کہ اگر برکس ممالک نے اپنی کرنسی بنا لی تو امریکا برباد ہو جائے گا، نیز ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں یہ بھی کہا کہ یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ برکس ممالک خود کو ڈالر سے دور کر رہے ہیں اور ہم دیکھتے ہی رہیں گے۔

 ان نام نہاد حریف ممالک کو واضح طور پر وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ طاقتور امریکی ڈالر کو بدلنے کے لیے نہ تو نئی برکس کرنسی بنائیں گے اور نہ ہی کسی دوسری کرنسی کی حمایت کریں گے، اگر ایسا نہ ہوا تو انھیں 100 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا، یہی نہیں بلکہ انھیں امریکا کی عظیم مارکیٹ میں اپنا سامان بیچنا بھی بھولنا پڑے گا، یہ ممالک کوئی اور ملک تلاش کرسکتے ہیں اور انھیں امریکا کو بھی الوداع کہنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی 150 فیصد ٹیرف کی دھمکی نے برکس گروپ کو توڑ دیا ہے، عالمی تناظر میں اس دھمکی کے دور رس نتائج نکلیں گے، کیونکہ امریکا پر کوئی بھروسہ نہیں کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

جغرافیائی سیاست میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے پس پردہ عوامل میں تیسری عالمی جنگ کی دھمک سنائی دیتی ہے، جیسا کہ روس اور یوکرین کی جنگ، چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی، اسرائیل فلسطین تنازع، امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ، یہ سب ایسے عوامل ہیں جو دنیا میں جنگوں کو بڑھا سکتے ہیں، اس وقت جنگیں روایتی ہونے کے بجائے معاشی سائبر اور پراکسی جنگوں کی شکل میں جاری ہیں عالمی حالات میں کشیدگی کے سبب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں اگر باہمی تباہی کی گارنٹی (MAD)Mutually Assured destruction کے اصول پر کاربند رہیں گی تو جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے براہ راست تصادم سے گریز کریں گی۔امریکی صدر ٹرمپ کے متضاد بیانات عالمی سطح پر تشویشناک صورتحال اختیار کر تے جا رہے ہیں، میامی میں ایف آئی آئی کے سربراہ اجلاس سے خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’تیسری عالمی جنگ سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا مگر یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ جنگ اب دنیا سے دور نہیں ہے‘‘ ٹرمپ کا یہ بیان واضح اعلان جنگ ہے ۔

ٹرمپ کے حالیہ بیان کے پس پردہ عوامل اور ریاکاریاں بھی پوشیدہ ہیں، جس سے تیسری عالمی جنگ کے خدشے کو تقویت ملتی ہے، امریکا اس وقت یوکرین جنگ کا خاتمہ اس وجہ سے چاہتا ہے کیونکہ اس پر مالی اور عسکری دباؤ بڑھ رہا ہے، دوسری طرف غزہ پر امریکا کی توجہ معنی خیز ہے۔ایسی صورتحال کے پیش نظر اگر روس مشرق وسطیٰ میں کھل کر مداخلت کرتا ہے چاہے وہ ایران، شام یا کسی اور مقام سے ہو، تو یہ امریکا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا، امریکا براہ راست جنگ سے گریز کرے گا اور اپنے اتحادیوں کو روسی اثر و رسوخ کے خلاف مضبوط کرے گا اور خاص طور پر اسرائیل کو مزید عسکری امداد فراہم کرے گا، جیسا اس نے یوکرین میں کیا،لہٰذا ممکنہ روسی مداخلت کے بڑھنے کی صورت میں امریکا اسے اپنے عالمی اثر و رسوخ میں کمی کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے براہ راست عسکری کارروائی کا فیصلہ کر سکتا ہے، اور اگر یہ ایسا ہوا تو ایک بڑی جنگ میں بدل سکتا ہے جو ممکنہ طور پر عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی دنیا کے ممالک کو نفرت انگیز دھمکیاں برکس ممالک خاص کر روس اور چین کو ایسے اقدامات کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں جس سے امریکا کی معاشی بالا دستی کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا، یہ اسی صورت ممکن ہو گا جب روس اور چین برکس گروپ میں توسیع کر کے ڈالر کے متبادل کو عملی جامہ پہنا دیں، جو کہ امریکا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہو سکتا ہے،جس کی وجہ سے امریکا خود کسی بڑی جنگ کی طرف بڑھے گا پھر یہ معاملات عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ٹرمپ برکس ممالک امریکا کی سے امریکا عالمی جنگ امریکا کے ممالک نے ممالک کو سکتا ہے ٹرمپ کی ہیں اور کے ساتھ رہے ہیں ٹرمپ کے کے لیے

پڑھیں:

امریکا کیساتھ بات چیت کا دروازہ مکمل طور پر کھلا ہے، چین

امریکا کیساتھ بات چیت کا دروازہ مکمل طور پر کھلا ہے، چین WhatsAppFacebookTwitter 0 23 April, 2025 سب نیوز

بیجنگ (سب نیوز)چین اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ پر برف پگھل رہی ہے اور دونوں کی جانب سے مثبت بیانات سے کشیدگی میں کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیے دروازہ پوری طرح کھلا ہے۔ترجمان نے چینی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور ہم لڑنا نہیں چاہتے لیکن اگر ضرورت پڑی تو آخر تک لڑیں گے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خبردار کیا کہ ایک طرف امریکا تجارتی معاہدہ کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے اور دوسری طرف دباو بھی ڈالنا چاہتا ہے۔ یہ چین سے معاملات طے کرنے کا درست طریقہ نہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین پرعائد بھاری ٹیرف میں نمایاں کمی کرنے جا رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے 142 فیصد ٹریف عائد کرکے چین کے ساتھ ایک سخت تجارتی جنگ چھیڑ دی تھی۔جوابا چین نے بھی امریکی اشیا پر 125 فیصد کے بڑے جوابی محصولات نافذ کر دیے جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا۔اس ٹیرف جنگ نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا اور عالمی کساد بازاری کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرلاہور میں بجلی پیدا کرنے والی ملک کی پہلی سڑک تیار لاہور میں بجلی پیدا کرنے والی ملک کی پہلی سڑک تیار کینالز منصوبے میں سیلاب کا پانی استعمال ہوگا، اس پر سندھ ہمیں ڈکٹیشن نہیں دے سکتا، عظمی بخاری ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت پر پینشن یا تنخواہ میں سے کوئی ایک چیز ملے گی، وزارت خزانہ نے آفس میمورنڈم جاری کر دیا این اے 18ہری پور میں انتخابی دھاندلی کا معاملہ، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کر دیا کینالوں کے معاملے پر وزیر اعظم بے بس ہیں تو اقتدار چھوڑ دیں، پیپلزپارٹی بلوچستان میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور لیویز اہلکاروں پر حملہ، 2 شہید TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • ٹریڈوار، مذاکرات واحد اچھا راستہ
  • پاکستان کا امریکی خام تیل درآمد کرنے پر غور
  • ٹرمپ ٹیرف کے خلاف امریکا کی 12 ریاستوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا
  • ٹرمپ کو ایک اور جھٹکا، امریکی عدالت کا وائس آف امریکا کو بحال کرنے کا حکم
  • امریکا کیساتھ بات چیت کا دروازہ مکمل طور پر کھلا ہے، چین
  • واشنگٹن: وزیر خزانہ کی عالمی مالیاتی اداروں اور امریکی رہنماؤں سے ملاقاتیں
  • ٹرمپ کے ٹیرف سے عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو گئی، آئی ایم ایف
  • پاکستان کا ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ کر 8.467 ارب ڈالر ہو گیا
  • ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ 34.37 فیصد بڑھ کر 8.467 ارب ڈالر ہو گیا
  • امریکا کا ایشیائی ممالک کی سولر مصنوعات پر 3521 فیصد ٹیکس کا اعلان