چینی، گھریلو سیلنڈر، بیف، آٹے کا تھیلا اور چاول مہنگے ہو گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, March 2025 GMT
ادارہ شماریات نے مہنگائی کے ہفتہ وار اعدادوشمار جاری کر دیئے، گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.09 فیصد کمی، سالانہ شرح منفی 0.87 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئی، اس دوران 13 اشیائے ضروریہ کے دام بڑھ گئے، کیلے 10 فیصد، چینی 3.15 فیصد، انڈے 2.52 فیصد مہنگے ہوگئے۔مٹن، بیف، گڑ، گندم کا آٹا، چاول، ایل پی جی بھی مہنگی ہوئی، گزشتہ ہفتے کپڑے، سگریٹس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
دوسری جانب پیاز 5.
ادارہ شماریات کا اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران کیلے 18 روپے فی درجن تک مہنگے ہوئے، چینی مزید 5 روپے مہنگی ،اوسط قیمت 162 روپے 64 پیسے فی کلو رہی، ایک ہفتے کے دوران ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 83 روپے 25 پیسے تک مہنگا ہوا۔اسی طرح انڈے فی درجن 7 روپے 23 پیسے، مٹن 6 روپے 56 پیسے تک مہنگا، 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 روپے 91 پیسے، بیف 50 پیسے تک مہنگا ہوا۔ ایک ہفتے میں پیاز 4 روپے 95 پیسے، ٹماٹر 2 روپے تک سستے ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔