پہلا مرحلہ مکمل، آئی ایم ایف سے قرضہ پروگرام پالیسی مذاکرات آئندہ ہفتے ہوں گے، خیبر پی کے کا نمائندہ بھی ملا
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان قرضہ پروگرام ریویو کے پالیسی مذاکرات آئندہ ہفتے شروع ہوں گے۔ گزشتہ روز تکنیکی مذاکرات کی تکمیل ہو گئی ہے جس میں آئی ایم ایف کے مشن نے تمام معاشی سیکٹر کے قدامات اور ان سیکٹرز کی کارکردگی کے اعداد و شمار کو حاصل کیا اور آئندہ ہفتے آئی ایم ایف ان کے حوالے سے اپنی رائے پاکستانی حکام سے شیئر کرے گا۔ تجاویز پر بات چیت کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف نے تجویز کیا ہے کہ ملک کے درآمدی ٹیرف میں کمی لائی جائے، بھاری ڈیوٹیز کی شرحوں کو کم کیا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف کو کہا گیا ہے کہ ٹیرف میں کمی کے تجارتی خسارہ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، اور ملک کی مقامی صنعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اب تک کی بات چیت کے نتیجے میں یہ طے ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک آپشن کے مطابق اس وقت تنخواہ دار طبقہ کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ چھ لاکھ روپے سالانہ تک ہے اس حد میں اضافہ کی تجویز ہے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے 12 لاکھ روپے سالانہ تک کی آمدن پر ٹیکسوں کی شرح کو کم کیا جائے، اور اس سے بالائی سلیبس میں بھی شرحیں کم کی جائیں۔ مذاکرات میں پی آئی اے اور نجکاری پروگرام کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ نیب اور کرپشن کے ا نسداد کے اداروں میں اصلاحات اور ان کی پیشرفت کے حوالے سے بھی رپورٹ مانگی گئی ہے۔ علاوہ ازیں نوائے وقت رپورٹ کے مطابق ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کیلئے پاک آئی ایم ایف اقتصادی جائزہ مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق اقتصادی جائزہ کیلئے پالیسی سطح کے مذاکرات کا دوسرا مرحلہ پیر سے شروع ہو گا۔ تکنیکی سطح کے مذاکرات میں گزشتہ روز خیبر پی کے کے نمائندہ نے مشن سے ملاقات کی۔ خیبر پی کے حکومت کی جانب سے معاشی اقدامات بارے بریفنگ دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ