کراچی ایئرپورٹ پرآج پھر 18 پروازیں منسوخ اور 4 تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
تکنیکی اورآپریشنل وجوہات کے باعث کراچی ایئرپورٹ پر18 پروازیں منسوخ اور 4 تاخیر کا شکارہوگئیں جن میں کراچی سے جدہ، دبئی، اسلام آباد، لاہور اور ملتان جانے والی پروزیں شامل ہیں۔ تکنیکی اور آپریشنل وجوہات کے باعث منسوخ ہونیوالی پروازوں میں کراچی سے جدہ جانیوالی سیرین ایئر کی پرواز ای آر 811،کراچی سے دبئی جانے والی ایمریٹس کی پرواز ای کے 609اورکراچی سے اسلام آبادجانے والی سیرین ایئرکی پرواز ای آر 502اور504شامل ہیں۔ کراچی سے لاہورجانے والی سیرین ایئرکی پرواز ای آر 524،522 اورکراچی سے لاہورجانے والی ایئر سیال کی پرواز پی ایف 145 بھی منسوخ ہوئی ہیں۔ کراچی سے اسلام آبادجانیوالی ایئر سیال کی پرواز پی ایف 125،123،کراچی سے اسلام آباد جانے والی ایئر بلیوکی پرواز 208 ،کراچی سے لاہورجانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 304بھی منسوخ ہونے والی پروازوں میں شامل ہیں۔ کراچی سے ملتان جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 330،کراچی سے اسلام آبادجانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 370،کراچی سے اسلام آباد جانے والی فلائی جناح کی پرواز نائن پی 672،670،کراچی سے لاہورجانے والی فلائی جناح کی پرواز نائن پی 840 اورکراچی سے مسقط جانے والی فلائی جناح کی پرواز نائن پی 644بھی شامل ہیں۔ کراچی سے پشاورجانے والی فلائی جناح کی پرواز نائن پی 865 بھی تکنیکی اورآپریشنل وجوہات کے باعث منسوخ ہوئی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کراچی سے لاہورجانے والی کراچی سے اسلام کی پرواز پی کی پرواز ای
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک