امریکا سے ڈی پورٹ پاکستانیوں کو لیکر دوسرا جہاز آئندہ ہفتے پاکستان پہنچنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
امریکا سے ڈی پورٹ پاکستانیوں کو لیکر دوسرا جہاز آئندہ ہفتے پاکستان پہنچنے کا امکان WhatsAppFacebookTwitter 0 8 March, 2025 سب نیوز
نیویارک(سب نیوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کی پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز ہوچکا ہے، پاکستانی غیر قانونی تارکین وطن کو لیکر دوسرا جہاز آئندہ ہفتے پاکستان پہنچنے کا امکان ہے۔ امریکا میں پاکستانی سفارتخانے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی جہاز میں 8 مزید پاکستانی غیر قانونی تارکین وطن ملک واپس پہنچیں گے،
آئندہ ہفتے ڈی پورٹ ہونے والے صرف 2 پاکستانیوں کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔غیرقانونی طور پر مقیم ملک بدر کیے جانے والے افراد کی دستاویزات کے مطابق 6 پاکستانی شہریوں کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، 2 پاکستانی شہریوں کا ریپ اور منشیات کا ریکارڈ ہے، غیر قانونی تارکین وطن میں رحمان، سلیم، نواز، سلمان، عظیم، خان، خالد مسیح بھی شامل ہیں۔
ان شہریوں کو خصوصی امریکی طیارے سے پاکستان کے نور خان ایئربیس پر پہنچایا جائے گا۔امریکا نے پاکستانی شہری کو غیر قانونی قرار دے کر ملک بدر کر دیا۔ 56 سالہ سید رضوری کو امریکا سے 25 فروری کو ملک بدر کیا گیا تھا، امریکی خفیہ ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے ملک بدر کیے گئے پاکستانی شہری کی تصویر بھی شیئر کردی۔2017 میں امریکا میں داخل ہونے والے سید رضوری امریکی شہر ڈیلاس میں رہائش پذیر تھے، ان کی گرفتاری 31 جنوری کو عمل میں لائی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئندہ ہفتے
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔