خضدار میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے قبائلی رہنما میر عبدالحفیظ مینگل جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
خضدار(نیوز ڈیسک)خضدارمیں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے قبائلی رہنما میرعبدالحفیظ مینگل جاں بحق ہوگئے۔
بلوچستان کے علاقے خضدارمیں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے قبائلی رہنما میرعبدالحفیظ مینگل جاں بحق ہوگئے، قبائلی رہنما کو زخمی حالت میں سی ایم ایچ اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
میرعبدالحفیظ مینگل اسپتال میں زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
لیویز تھانے پر مسلح افراد کا حملہ
دوسری جانب ابتدائی اطلاعات کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ خضدار میں ایک اور ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے۔ ناچ کے علاقے میں لیویز تھانے پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے تھانے میں موجود تمام اسلحہ ضبط کر لیا، لیویز اہلکار بے بس رہے۔
ذرائع کے مطابق تھانے اوراحاطے میں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگانے کی اطلاعات ہیں تاہم انتظامیہ کی جانب سے مؤقف سامنے نہیں آیا۔
مزیدپڑھیں:نئے ملک کی شہریت انتہائی سستے داموں فروخت کیلئے پیش، باہر سیٹل ہونا چاہتے ہیں؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: قبائلی رہنما مسلح افراد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔