نریندر مودی نے دہلی کی خواتین سے وعدہ خلافی کی ہے، آتشی
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے کل 4 رکنی کمیٹی بنائی اور سبھی جانتے ہیں کہ جب کسی چیز کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنا ہوتا ہے تو اس پر غور کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کی بی جے پی حکومت نے "مہیلا سمردھی اسکیم" کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے لئے کابینہ کی میٹنگ میں 5100 کروڑ روپے منظور کئے گئے۔ منصوبہ کے تحت غریب خواتین کو ہر مہینے 2500 روپے کی امدادی رقم دی جانی ہے۔ اسے لے کر بی جے پی کے ذریعہ کمیٹی تشکیل کرنے پر عام آدمی پارٹی نے بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کی لیڈر اور دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آتشی نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی کی خواتین سے وعدہ کیا تھا کہ 8 مارچ کو 2500 روپے کی پہلی قسط دی جائے گی لیکن انہوں نے رقم بھی نہیں دی اور منصوبہ کے پیرامیٹر بھی جاری نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن عمل کیسے اور کب ہوگا، یہ بھی طے نہیں کیا گیا ہے۔
آتشی نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے کل 4 رکنی کمیٹی بنائی اور سبھی جانتے ہیں کہ جب کسی چیز کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنا ہوتا ہے تو اس پر غور کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پوری طرح سے صاف ہے کہ مودی کی گارنٹی فقط ایک "جملہ" نکلی۔ اس سے پہلے ہفتہ کو دہلی اسمبلی میں حزب مخالف کی لیڈر آتشی نے کہا تھا کہ بی جے پی کی گارنٹی آخری کار بس ایک جملہ ثابت ہوئی۔ 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین پر دہلی کی لاکھوں خواتین اپنے فون میں 2500 روپے آنے کے پیغام کا انتظار کرتی رہ گئیں لیکن بی جے پی کی حکومت نے پیسے نہیں دئیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کمیٹی بنائی نے کہا کہ حکومت نے بی جے پی دہلی کی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔