حکومت امریکا کی مدد سے کالعدم تنظیموں کی فہرست اپ ڈیٹ کرے گی، عقیل ملک
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت امریکی ایجنسیوں کی مدد سے کالعدم تنظیموں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرے گی اور ان تنظیموں سے منسلک افراد پر امریکا کی جانب سے سفری پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے کسی قسم کی پریشانی کی بات نہیں ہے کہ ان پر سفری پابندی عائد کی جائے گی یا پھر پاکستانی شہریوں کی امریکا میں داخلے پر پابندی ہوگی، ایسا کچھ نہیں ہوگا۔
ان کاکہناہے کہ البتہ جن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے یا انہیں شیڈول فور میں رکھا گیا ہے، اس حوالے سے لسٹ اپ ڈیٹ ہوگی، ہماری امریکا کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ ہے اور اسی بنیاد پر ہم اپنی لسٹ کو اپ ڈیٹ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کے امریکا میں داخلے پر پابندی ہوسکتی ہے یا ان کے ویزا منسوخ ہوسکتے ہیں لیکن اس کے علاوہ پاکستانی شہریوں پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگے گی جس سے پاکستانی شہری امریکا کا سفر نہ کرسکیں۔
خیال رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے 84 کالعدم تنظیموں کی فہرست جاری کرتے ہوئے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان غیر رجسٹرڈ اور کالعدم تنظیموں کو خیرات نہ دیں۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کو کسی بھی قسم کی معاونت فراہم کرنا انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت جرم ہے۔
مزید کہا گیا کہ دہشت گردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کی معاونت کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
بیرسٹر عقیل نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور مجھے یقین ہے کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ان کی اپنی فہرستوں کو بھی اپ ڈیٹ کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں گے اور ہماری فہرست کی بنیاد پر وہ کالعدم پاکستانی تنظیموں کے بارے میں بھی اپنی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کالعدم تنظیموں کی فہرست کو اپ ڈیٹ
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔