بی جے پی کے حمایتی کی شرمناک حرکتیں، عالمی سطح پر بھارت کے ریپ کلچر کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
سڈنی: آسٹریلیا کی عدالت نے بھارتی کمیونٹی لیڈر بلیش دھانکھر کو متعدد خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور سنگین جرائم میں ملوث پائے جانے پر 40 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بلیش دھانکھر نے نوکری کے جعلی اشتہارات کا استعمال کرتے ہوئے جنوبی کوریا کی پانچ خواتین کو نشہ آور دوائیں دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ 43 سالہ دھانکھر، جو ہریانہ سے تعلق رکھتا ہے، بھارتی بی جے پی کے سیٹلائٹ گروپ کے بانی اور ہندو کونسل آف آسٹریلیا کے ترجمان کے طور پر بھی سرگرم تھا۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ دھانکھر اپنے متاثرین کو درجہ بندی کرتا تھا اور مستقبل کی جنسی تسکین کے لیے زیادتی کے مناظر ریکارڈ کرتا تھا۔ تمام خواتین کی عمریں 21 سے 27 سال کے درمیان تھیں اور ان میں سے اکثر حملے کے وقت بے ہوش یا نشہ آور ادویات کے زیر اثر تھیں۔
2023 میں عدالت نے دھانکھر کو 39 سنگین جرائم میں مجرم قرار دیا، جن میں 13 ریپ کے واقعات شامل تھے۔ اس کیس نے بھارت کی بی جے پی حکومت اور مودی سرکار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جو ایسے مجرموں کو کمیونٹی لیڈر کے طور پر فروغ دے رہی ہے۔
عالمی سطح پر بھارتی معاشرتی زوال اور ریپ کلچر پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے، جسے روکنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔
صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔