ایئر انڈیا کو سبکی کا سامنا، جہاز کے کموڈ بھر جانے کے سبب پرواز منزل تک نہ پہنچ سکی
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
بھارتی ایئر لائن ایئر انڈیا کی ایک پرواز جو شکاگو سے دہلی جا رہی تھی، فلائٹ کے چند گھنٹوں بعد ہی واپس شکاگو کے ہوائی اڈے لینڈ کرنے پر مجبور ہو گئی کیونکہ طیارے کے باتھ روم گندگی بھرنے سے بند ہو گئے تھے۔
طیارے کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس میں مسافروں کو عملے کے ساتھ بحث کرتے دیکھا گیا۔ صارفین کی جانب اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایئر انڈیا میں سفر نہ کریں۔
https://Twitter.
اس واقعے کے بعد ایئر لائنز کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جہاز کے 12 میں سے 8 باتھ روم ’غیر فعال‘ ہوگئے تھے، جس کی وجہ سے پرواز کو شکاگو واپس لوٹنا پڑا۔
ایئر انڈیا کے ترجمان نے کہا، ’واقعے کی تحقیقات کے دوران ہماری ٹیموں نے پلاسٹک بیگ اور کپڑے جو باتھ رومز میں پھینکے گئے تھے وہ نکالے جس کے باعث پلمبنگ میں رکاوٹ آ گئی تھی اور باتھ رومز غیر فعال ہو گئے تھے‘۔
یہ بھی پڑھیں: ’جہاز میں آبشار‘: ایئر انڈیا کی فلائٹ میں بارش، صارفین کی تنقید
ترجمان نے مزید بتایا کہ ’پرواز کے 1 گھنٹہ 45 منٹ بعد، عملے نے بزنس اور اکانومی کلاس کے کچھ باتھ رومز کے غیر فعال ہونے کی اطلاع دی۔ اس کے بعد طیارے کے 12 میں سے 8 باتھ رومز غیر فعال ہو گئے، جس سے تمام مسافروں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا‘۔
واضح رہے کہ انڈیا ایئر لائن کی جانب سے شکایات پہلی بار سامنے نہیں آئیں بلکہ اس سے قبل بھی ایئر لائن کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا گیا کہ فلائیٹ میں اچانک پانی ٹپکنا شروع ہو جاتا ہے جس کو ایئر ہوسٹس کپڑے کی مدد سے روکنے کی کوشش کرتی نظر آتی۔ فلائٹ میں پانی ٹپکنے کی وجہ سے ایئر انڈیا کی مینجمنٹ پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
گزشتہ ماہ بھارت کی ممبئی سے دبئی جانے والی ایئر انڈیا کی فلائٹ تاخیر کا شکار ہو گئی تھی جس کی وجہ سے مسافر تقریباً 5 گھنٹے تک طیارے کے اندر قید رہے۔ ایسے میں مسافروں کا غصہ بڑھتا رہا اور مشتعل افراد طیارے کو گھونسے مارتے رہے اور کہتے رہے کہ انہیں فلائٹ سے اتار دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ہمیں اب آپ پر اعتماد نہیں‘، ایئر انڈیا کی فلائٹ 5 گھنٹے تاخیر کا شکار، مسافر مشتعل
حال ہی میں حال ہی میں ایئر انڈیا کو اپنے عملے کے ارکان کے لیے مناسب رہائش فراہم نہ کرنے پر تنقید کا سامناکرنا پڑا تھا۔ ایک صارف نے جہاز کے عملے کو دیے جانے والے کمرے کی تصاویر شیئر کی تھیں جس میں سنگل بیڈ پڑا ہواتھا جو بیڈ شیٹ کے بغیر تھا اور کمرے کے اندر سامان بے ترتیبی سے پڑا ہوا تھا۔
اس پرایئر انڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور صارفین کی جانب سے کہا گیا کہ اگر آپ ایئر انڈیا کو عالمی معیار کی ایئر لائن بنانا چاہتے ہیں تو ایک لمبی فلائٹ سے واپس آنے والے ائیر لائن کے عملے کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرناچاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئر انڈیا بھارتی ایئر لائن شکاگو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئر انڈیا بھارتی ایئر لائن شکاگو باتھ رومز ایئر لائن غیر فعال گئے تھے کی جانب گیا کہ
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔