محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے میٹرک کے سالانہ امتحانات 2025 میں نقل کی روک تھام کے لیے فیس ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی متعارف کرادی۔

صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے چیئرمین ٹاسک فورس برائے تعلیم مزمل محمود کے ہمراہ رائے ونڈ روڈ پر واقع حساس امتحانی مراکز کا اچانک معائنہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں کراچی: میٹرک امتحانات مذاق اور نقل کرانا منافع بخش کاروبار بن گیا

دورے کے دوران حکام نے تھری ڈی بارکوڈ سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے طالب علموں کی شناخت کی تصدیق کی، امتحان کے انتظامات کا جائزہ لیا اور طالب علموں کی رائے حاصل کی۔

سکندر حیات نے امتحانی عمل کو ہموار رکھنے پر سپروائزری اسٹاف کی تعریف کی۔ رائے ونڈ روڈ کے امتحانی مراکز پہلے بڑے پیمانے پر نقل کے لیے جانے جاتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے نئے اقدامات نے نقل بازی کو 90 فیصد تک کم کیا ہے جو شفافیت کی غیر معمولی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ نقل کے کیسز میں پچھلے سال روزانہ کے 15،20 سے گھٹ کر اس سال صرف 2،3 معاملے رہ گئے ہیں۔

یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب کے آئندہ سال تک امتحانی نظام میں 100 فیصد شفافیت حاصل کرنے کے ہدف کے عین مطابق ہے۔

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (بی آئی ایس ای) لاہور نے امتحانی عمل کو جدید بنانے کے لیے پہلی بار کیو آر کوڈڈ آن لائن رول نمبر سلپس متعارف کرا دی ہیں۔

کیو آر کوڈ سسٹم ذاتی ڈیٹا تک فوری رسائی و تصدیق کی اجازت دیتا ہے اور نقل کو کم سے کم کرتا ہے۔ ایک خودکار عملے کی تعیناتی کا نظام منصفانہ ڈیوٹی اسائنمنٹ کو یقینی بناتا ہے، جانبداری اور بدانتظامی کو ختم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں کراچی: میٹرک امتحانات میں نقل مافیا کا راج، ایک اور پرچہ آؤٹ

کنٹرولر امتحانات زاہد میاں کے مطابق یہ تکنیکی اپ گریڈز ایک محفوظ اور مؤثر امتحانی تجربہ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ میٹرک 2025 کے امتحانات 4 مارچ کو شروع ہوئے اور 24 مارچ کو اختتام پذیر ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پنجاب جدید ٹیکنالوجی طالبعلم مریم نواز نقل کی روک تھام وزیر تعلیم پنجاب وزیراعلیٰ ویژن وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جدید ٹیکنالوجی طالبعلم مریم نواز نقل کی روک تھام وزیر تعلیم پنجاب وی نیوز کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ