چینی کمپنی بی وائی ڈی کی شارک 6 پاکستان میں باضابطہ لانچ کردی گئی، قیمت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
پاکستان کی آٹو انڈسٹری نے آج ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ہے، کیونکہ دنیا کی معروف الیکٹرک وہیکل ساز کمپنی بی وائی ڈی نے اپنی جدید ترین شارک 6 (پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل) کو 19.95 ملین روپے کی قیمت پر باضابطہ طور پر پاکستان میں لانچ کر دیا ہے۔
یہ لانچ بی وائی ڈی کی جانب سے پاکستانی مارکیٹ میں قدم جمانے کی اب تک کی سب سے بڑی اور جرات مندانہ پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جو نہ صرف ایک طاقتور اور جدید پک اپ ٹرک پیش کر رہی ہے بلکہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے صاف اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے رجحان سے بھی ہم آہنگ ہے۔
پاور، پرفارمنس اور ماحول دوستی کا امتزاجبی وائی ڈی کی شارک 6 PHEV میں 436 ہارس پاور اور 650 نیوٹن میٹر ٹارک کی شاندار طاقت موجود ہے، جو اسے اپنی کلاس میں سب سے زیادہ طاقتور ہائبرڈ گاڑیوں میں شامل کرتی ہے۔ اس میں نصب 29.
گاڑی کی ایندھن بچت 50 کلومیٹر فی لیٹر تک بتائی گئی ہے، جو اس سائز کی گاڑی کے لیے قابل ذکر ہے۔ اس کے مختلف ٹیرین موڈز جیسے مڈ، سنو اور سینڈ اسے شہر اور دشوار گزار راستوں دونوں کے لیے موزوں بناتے ہیں۔
محفوظ، صاف اور ذہین ڈرائیونگ کا تجربہبی وائی ڈی کی معروف بلیڈ بیٹری ٹیکنالوجی نہ صرف اعلیٰ حفاظتی معیار فراہم کرتی ہے بلکہ گرمی کے خلاف زبردست تھرمل استحکام بھی دیتی ہے۔ شارک 6 کی سب سے بڑی خوبی اس کی CO₂ کے اخراج میں 62 فیصد تک کمی ہے، جو لاہور، کراچی جیسے شہروں میں فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں نئی ٹیکنالوجی کا آغازبی وائی ڈی کی شارک 6 صرف ایک گاڑی نہیں بلکہ ایک مکمل ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ہے۔ اس کی انٹیلیجنٹ ہائبرڈ پاور ٹرین، سٹیئرنگ اور ٹریکشن کنٹرول سسٹمز اور مختلف ماحول سے ہم آہنگ ڈرائیونگ فیچرز پاکستانی صارفین کے لیے ایک نیا معیار متعین کرتے ہیں۔
مقامی مارکیٹ کے لیے بین الاقوامی معیاربی وائی ڈی کی پاکستان میں باضابطہ آمد کے ساتھ ہی صارفین کو اب ایک ورلڈ کلاس ہائبرڈ گاڑی تک رسائی حاصل ہو گئی ہے، جو طاقت، استعداد، ماحول دوستی اور خوبصورتی کا امتزاج ہے۔ یہ قدم نہ صرف پاکستانی صارفین کے لیے ایک بہتر انتخاب ہے بلکہ مقامی کمپنیوں کو بھی صاف توانائی کی طرف منتقلی کی ترغیب دے سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بی وائی ڈی شارک 6 ٹیکنالوجی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بی وائی ڈی شارک 6 ٹیکنالوجی بی وائی ڈی کی کے لیے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔