روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کیسے کی جائے، حکومت کنفیوزڈ
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت نیویارک میں واقع روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کرنا چاہتی ہے، لیکن یہ نجکاری کیسے کی جائے؟ حکام اس معاملے میں کنفیوزڈ ہیں اور کوئی واضح لائحہ اختیار کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں.
گزشتہ روز کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے نجکاری کمیشن کو منافع بخش روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کی ہدایت کی، لیکن اس معاملے کو واضح نہیں کیا کہ روزویلٹ ہوٹل مکمل طور پر بیچ دیا جائے، یا پھر شراکت داری کی جائے۔
کابینہ کمیٹی نے یہ فیصلہ علی پرویز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا ہے، وزیرپٹرولیم علی پرویز کی سربراہی میں کمیٹی نے یہ تجویز دی تھی کہ روزویلٹ کو اوپن بڈنگ کے ذریعے بیچا جائے، لیکن انھوں نے یہ تجویز کیا تھا کہ نجکاری کیلیے بہترین طریقے کا انتخاب نجکاری کمیشن کرے، اور نجکاری کے طریقے کا انتخاب کرتے ہوئے ممکنہ خطرات کو ذہن میں رکھے۔
نجکاری کمیشن نے ہوٹل کی نجکاری گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ موڈ کے تحت کرنے کی تجویز دی تھی، جبکہ مکمل فروخت، جوائنٹ وینچر اور 99 سالہ لیز کے آپشنز کو مذاکرات کیلیے کھلا رکھا تھا۔
تاہم بورڈ کی سفارشات فنانشل ایڈوائزر کی تجویز کے برعکس تھیں، مالیاتی مشیر نے تین آپشن تجویز کیے تھے، جن میں مکمل فروخت، جوائنٹ وینچر اور 99 سالہ لیز شامل ہیں، جبکہ مشیر نے جوائنٹ وینچر کی سفارش کی۔
نائب وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق CCOP نے نجکاری اقدامات کا مکمل جائزہ لیا ہے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نجکاری کمیشن کو ہوٹل کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، علی پرویز کمیٹی کے مطابق کسی بھی غیر ملکی حکومت نے ہوٹل کی خریداری میں دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہوٹل کی نجکاری نجکاری کمیشن نجکاری کی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔