کسی ملک کا آئین کے مطابق نہ چلنا سنگین جرم ہے: شبلی فراز
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے رہنما و سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ کسی ملک کا آئین کے مطابق نہ چلنا سنگین جرم ہے۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا کہ جو بھی چیزیں ہو رہی ہیں وہ آئین کے خلاف ہیں، کل میں نے سینیٹ میں اپنی تقریر میں آئینی نکات اٹھائے، سینیٹ کے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین یا صدر کے جو الیکشن ہوئے یہ ایک لحاظ سے غیر آئینی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے یہ واضح ہے کہ ان شقوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے، یہ جو آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے اس معاملے کو ہم سپریم کورٹ لے کر جا رہے ہیں۔
سینیٹر شبلی فراز کا مزید کہنا تھا کہ جب کسی طریقہ کار کے بغیر آئین میں تبدیلیاں کر دی جائیں تو آئین محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جاتا ہے، مختلف کیسز کی آج سماعت ہوئی جن میں سے اکثر کیسز کی لاہور ہائیکورٹ سے ضمانتیں ہو چکی ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، نصب العین واضح ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے جو بھی ہمارے ساتھ چلے گا، وہ قوم کے ساتھ چلے گا، علی امین گنڈاپور اپنی سیٹ پر رہیں گے، وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقرر کردہ وزیر اعلیٰ ہیں۔
معصوم شہریوں کو یرغمال بنانےاور شہید کرنیوالے دہشت گردوں کو نشان عبرت بنایا جائے:عوامی تحریک
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شبلی فراز
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔