برطانیہ، فرانس اور جرمن سفیروں کی ایرانی وزارت خارجہ میں طلبی
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
ان ممالک کے سفیروں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام کیخلاف اجلاس میں شرکت کرنے پر طلب کیا گیا۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کیخلاف اجلاس کو امریکا کا یکطرفہ، سیاسی اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے سفیروں کو طلب کرلیا۔ تہران سے ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ان ممالک کے سفیروں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام کیخلاف اجلاس میں شرکت کرنے پر طلب کیا گیا۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کیخلاف اجلاس کو امریکا کا یکطرفہ، سیاسی اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا۔ ایران نے کہا کہ اجلاس بلانے کا کوئی تکنیکی اور قانونی جواز نہیں تھا۔ واضح رہے کہ سلامتی کونسل کے چند ارکان نے بدھ کے روز ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی رپورٹ پر اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران نے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔