نوجوان سوشل میڈیا پر احتیاط کریں لاعلمی میں وہ توہین مذہب کا مواد شیئر کردیتے ہیں، وفاقی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا پر احتیاط کریں لاعلمی میں وہ توہین مذہب کا مواد شیئر کردیتے ہیں۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ہستی کی وجہ سے ہماری پہچان ہے وہ رحمتہ اللعالمین ﷺ کی ہستی ہے، رسول اکرم ﷺ کے احترام کا اعتراف سب مذاہب کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ کی توہین کی سزا کسی بھی شکل میں سزائے موت ہے، پہلے یہ سزا عمر قید یا سزائے موت دونوں میں سے ایک تھی مگر مجھے اللہ پاک نے اعزاز بخشا، نواز شریف کی سابقہ ایک حکومت میں، میں نے 295میں ترمیم پیش کی اور اب توہین رسالت کی سزا صرف اور صرف سزائے موت ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے اسلاموفوبیا ڈے منانے کے اعلان پر ہم ہر سال عالمی یوم تحفظ ناموس رسالت مناتے ہیں، وزارت مذہبی امور نے تمام صوبوں کو بھی عالمی یوم تحفظ ناموس رسالت منانے کے لئے خطوط لکھے ہیں، آج جمعہ کے موقع پر تحفظ ناموس رسالت پر خطبات دیئے گئے، سوشل میڈیا پر بعض شرپسند عناصر توہین مذہب کررہے ہیں وزارت مذہبی امور کے پورٹل پر ایسی شکایات درج کرائی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے بہت ہی احتیاط سے کام لے، بعض اوقات نوجوان نسل کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ توہین پر مبنی پوسٹ شیئر کردیتے ہیں، توہین آمیز پوسٹ کرنے کے بعد ان لوگوں کو سخت مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے، والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ سوشل میڈیا پر کوئی توہین آمیز پوسٹ شیئر نہ کریں۔
انہوں ںے مزید بتایا کہ توہین صحابہ واہلبیت بل قومی اسمبلی و سینیٹ سے پاس ہوا ہے وہ بل صدر کے پاس ہے ابھی واپس نہیں آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔