اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 مارچ 2025ء) عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں امداد اور تجارتی سامان کی رسائی بند ہو جانے سے غذائی تحفظ کے حوالے سے اب تک حاصل کردہ کامیابیاں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

'ڈبلیو ایف پی' کا کہنا ہے کہ رواں مہینے کے آغاز پر اسرائیل کی جانب سے غزہ کے تمام سرحدی راستے بند کیے جانے کے باعث علاقے میں خوراک کی ترسیل معطل ہو گئی ہے۔

ان حالات میں خوراک کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگی ہیں۔ بعض جگہوں پر آٹے، چینی اور سبزیوں کے نرخ میں 200 گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ امداد یا خوراک کی تجارتی ترسیل بحال ہونے سے متعلق غیریقینی کے باعث تاجروں نے اشیا ذخیرہ کرنا شروع کر دی ہیں۔ Tweet URL

ادارے کے پاس ایک ماہ تک اجتماعی باورچی خانے اور تنور چلانے کے لیے خوراک کے ذخائر اور دو ہفتے تک 550,000 لوگوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار کھانے کے پارسل بھی موجود ہیں۔

(جاری ہے)

تاہم، اس عرصہ میں امداد اور تجارتی سامان کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو غزہ کے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر جنگ بندی سے پہلے جیسی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔خوراک کی تقسیم محدود کرنے کا فیصلہ

'ڈبلیو ایف پی' کی جانب سے بھیجی گئی مزید 63 ہزار میٹرک ٹن خوراک غزہ کی جانب راستے میں ہے یا سرحدی راستوں پر پڑی ہے جسے لوگوں تک پہنچانے کی اجازت تاحال نہیں مل سکی۔

اس سے 11 لاکھ لوگوں کی تقریباً تین ماہ کی غذائی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔

19 جنوری کو جنگ بندی پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد ادارے نے 40 ہزار ٹن خوراک غزہ میں پہنچائی ہے۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ 35 ہزار لوگوں میں 68 ملین ڈالر نقد امداد بھی تقسیم کی گئی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے امداد کی فراہمی پر حالیہ پابندی کے بعد ادارے نے تیار شدہ خوراک کی تقسیم محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔

'ڈبلیو ایف پی' اس وقت غزہ بھر میں 33 اجتماعی باورچی خانوں کو غذائی مدد پہنچا رہا ہے جن میں روزانہ ایک لاکھ 80 ہزار کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ادارہ 25 تنوروں کو بھی آٹا اور دیگر سامان مہیا کر رہا ہے۔ تاہم، کھانا پکانے کے لیے گیس کی عدم دستیابی کے باعث 8 مارچ سے 6 تنور بند ہو گئے ہیں۔

مغربی کنارے میں غذائی قلت

'ڈبلیو ایف پی' نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے غذائی عدم تحفظ پر تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں فلسطینیوں کو اسرائیل کی عسکری کارروائیوں اور نقل و حرکت میں پابندیوں کا سامنا ہے۔

ان حالات میں بڑے پیمانے پر لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں اور بازاروں میں خوراک کی کمی ہو گئی ہے۔

علاقے میں معاشی حالات خراب ہونے سے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے بنیادی ضرورت کی خوراک کا حصول بھی ممکن نہیں رہا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ ایک لاکھ 90 ہزار لوگوں کو ماہانہ بنیاد پر نقد امداد مہیا کر رہا ہے اور تقریباً 16 ہزار انتہائی بدحال لوگوں کو ایک مرتبہ امداد بھی مہیا کی گئی ہے۔

ادارے نے بتایا ہے کہ اسے آئندہ چھ ماہ کے دوران غزہ اور مغربی کنارے میں 14 لاکھ لوگوں کو مدد پہنچانے کے لیے 265 ملین ڈالر کے مالی وسائل درکار ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خوراک کی لوگوں کو کی جانب گئی ہے کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان