پانی پر موقف واضح، مسائل کا حل سیاسی انداز میں نکل سکتا ہے: بلاول
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
کراچی (سٹاف رپورٹر+نوائے وقت رپورٹ) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول نے کہا ہے کہ پانی کے معاملے پر ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے۔ تمام مسائل کا حل سیاسی انداز میں نکل سکتا ہے۔ حکومت سندھ کے پبلک پرائیویٹ کیرئیر پورٹل اور ایپلی کیشن ’آئی ورک فار سندھ‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں بلاول نے کہا کہ جعفر ایکسپریس ہائی جیک کے بعد ہماری فورسز نے دہشتگردوں کو شکست دی۔ پاک فوج کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انتہا پسندی ہو یا دہشتگردی، ہم ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ میں ضرور تعریف کروں گا کہ ہمارے پاس ایسا وزیر اعلیٰ ہے جو عوام کی خدمت کرتا ہے اور اپنی پرفارمنس بتاتا ہے۔ ہم نے نئی نہروں پر قومی اسمبلی میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ آپ کی آواز اسلام آباد تک پہنچائیں گے۔ کچھ لوگوں کو احساس ہوا، انہوں نے تبصرہ بھی کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ کوئی نیا ایشو نہیں ہے، ہر وقت وزیر اعلیٰ سندھ آپ کا مقدمہ لڑتے ہیں۔ اس ایشو کو جہاں بھی اٹھایا گیا وہاں وزیر اعلیٰ سندھ نے مخالفت کی۔ ہم مثبت سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت ترقی کرے لیکن پانی کی تقسیم ٹھیک ہونی چاہیے۔ سندھ کے عوام روزگار کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جتنے سندھ کے لوگوں کی نوکریوں کی ڈیمانڈ ہے، اتنی سرکاری نوکریوں نہیں ملتیں۔ ہر کوئی وزیر اعلیٰ سے شکایت کرتا ہے۔ اب اس پورٹل کے تحت ملازمت کے مواقع دستیاب ہوں گے۔ سیلاب متاثرین کو صرف گھر ہی نہیں دیے بلکہ ان کے بینک اکاؤنٹس بھی بنائے اور خواتین کو مالکانہ حقوق بھی دیے۔ ہاؤسنگ منصوبے کی وجہ سے 10 لاکھ آسامیاں بنیں۔ نوکریاں دینے والوں سے کہتا ہوں کہ آئیں اور اس پلیٹ فارم کا حصہ بنیں۔ ابھی سندھ کے عوام آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، میں ہو کر آیا ہوں۔ پیپلز پارٹی کی یوتھ ونگ اور پی ایس ایف سے کہتا ہوں وہ اس کی مہم چلائیں۔ بزنس کمیونٹی سے کہتا ہوں وہ بھی اس پورٹل کا حصہ بنیں اور سندھ کے ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھائیں۔ مہنگائی کم ہورہی ہے۔ ہم ماڈرن ٹیکنالوجی کو استعمال کریں گے۔ علاوہ ازیںبلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی ہاؤس میں صوبے میں قیام امن کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں شرکت کی۔ سندھ میں قیام امن کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بلاول بھٹو سندھ میں زراعت کی ترقی کے لئے ہونے والے اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زراعت کے شعبے کو پیش آنے والے مسائل اور ان کے حل پر بریفنگ دی گئی۔ بلاول بھٹو اور وزیراعلی کو کاشت کاروں کو سبسڈی پر فراہم کی جانے والے مشینری سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر اعلی سندھ کے نے والے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔