حکومت نے باضابطہ طور پر کرپٹو کونسل قائم کردی
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
وزیر خزانہ اورنگزیب کرپٹو کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے
وزیر خزانہ کے چیف ایڈوائزر برائے پاکستان کرپٹو کونسل بلال بن ثاقب سی ای او مقرر
وفاقی حکومت نے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں باضابطہ طور پر کرپٹو کونسل قائم کر دی، جو موثر پالیسی سازی، جدیدیت کے فروغ اور محفوظ مالیاتی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پاکستان کرپٹو کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے ، وزیر خزانہ کے چیف ایڈوائزر برائے پاکستان کرپٹو کونسل بلال بن ثاقب اس کونسل کے سی ای او مقرر کردیے گئے ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ بلال ثاقب بلاک چین ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری حکمت عملی اور ڈیجیٹل جدت کے شعبے میں اپنی مہارت کے ذریعے اس اقدام کی قیادت کریں گے ۔وزارت خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کرپٹو کونسل کے بورڈ ممبران میں گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی)، وفاقی سیکریٹری قانون اور وفاقی سیکریٹری شامل ہیں۔کونسل سے متعلق کہا گیا کہ کونسل کرپٹو اپنانے کے لیے واضح ضابطہ جاتی ہدایات مرتب کرنے کی سفارشات پیش کرے گی، کونسل عالمی کرپٹو اور بلاک چین تنظیموں سے روابط قائم کر کے بہترین عالمی روایات اپنانے میں تجاویز دے گی۔وزارت خزانہ نے بتایا کہ کونسل مالیاتی ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور بلاک چین ڈیولپرز کے ساتھ مل کر ذمہ دارانہ جدت کو فروغ دینے کی تجاویز دے گی۔اسی طرح کونسل صارفین کے تحفظ اور مالیاتی سلامتی کے لیے مضبوط قانونی اور تعمیلی فریم ورک تیار کرے گی۔وزارت خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کرپٹو کونسل کے قیام سے ملک میں مالیاتی اور تکنیکی ترقی کا نیا باب کھلے گا اور کونسل ملک میں بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے فروغ اور ضابطہ کاری کی جانب ایک نمایاں پیش رفت ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ یہ کونسل کرپٹو اپنانے کے لیے مؤثر پالیسی سازی، جدیدیت کے فروغ اور محفوظ مالیاتی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔