ایس ڈی پی آئی کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ ہم تمام شہریوں سے کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کے خلاف متحد ہونے اور ایک پُرامن اور جامع ہندوستان کیلئے اجتماعی طور پر کام کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے جنرل سکریٹری محمد شفیع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہولی کا تہوار، جو اتحاد اور خوشی کی علامت ہے، افسوسناک طور پر مسلمانوں کے خلاف ٹارگٹڈ تشدد کے واقعات سے پھیکا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں ہندو اور مسلم دونوں برادریوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہوں اور تفرقہ انگیز قوتوں کو مسترد کریں۔ محمد شفیع نے مزید کہا کہ ہولی 2025ء کی تقریبات کے دوران ہونے والے حالیہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر تعصب، امن و امان کی خلاف ورزیوں اور ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ حالیہ رپورٹس نے ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر جانبداری کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سنبھل میں حکام کی طرف سے ہولی کے دوران مساجد کو ترپال کی چادروں سے ڈھانپنے کا فیصلہ، اہلکاروں کے غیر حساس تبصرے، جیسے اترپردیش پولیس افسر کا بیان کہ مسلمانوں کو ہولی کے دوران باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیئے اگر وہ رنگوں کے تئیں حساس ہیں، فرقہ وارانہ کشیدگی کو مزید بڑھاتے ہیں۔ محمد شفیع نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات اور بیانات مساوات اور انصاف کے ان اصولوں کو نقصان پہنچاتے ہیں جن پر ہماری جمہوریت کھڑی ہے۔ ہولی کا تہوار، جو اتحاد اور خوشی کی علامت ہے، افسوسناک طور پر پسماندہ برادریوں کو نشانہ بنانے والے واقعات سے متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خبروں نے ایسی مثالوں پر روشنی ڈالی ہے جہاں تقریبات غنڈہ گردی کی طرف بڑھ گئی ہیں، جس سے مسلمانوں متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی اس طرح کی خلاف ورزی نہ صرف تہوار کی روح کو داغدار کرتی ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے ہم آہنگی کو بھی خطرہ بناتی ہے۔

محمد شفیع نے کہا کہ اس مشکل وقت میں ہندو اور مسلم دونوں برادریوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ سماج دشمن سرگرمیوں کے خلاف یکجہتی کے لئے اکٹھے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بعض گروہوں کی طرف سے استعمال کیے جانے والے تفرقہ انگیز حربوں کے خلاف ہوشیار رہنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ محمد شفیع نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی انصاف، مساوات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی وکالت کے لئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام شہریوں سے کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کے خلاف متحد ہونے اور ایک پُرامن اور جامع ہندوستان کے لئے اجتماعی طور پر کام کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ محمد شفیع نے کے خلاف کے لئے

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں