امریکا میں سفری پابندیوں سے بچنے کے لیے پاکستان کو 60 دن کی مہلت
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان کو ویزہ پابندیوں سے بچنے کے لیے 60 روز کی مہلت مل گئی، امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے سفری پابندی میں نرمی کی گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان کو سفری پابندی کی تیسری کیٹگری میں رکھا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا میں سفری پابندیوں سے بچنے کے لیے پاکستان کو 60 دن کی مہلت ملی گئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان کو ویزہ پابندیوں سے بچنے کے لیے 60 روز کی مہلت مل گئی، امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے سفری پابندی میں نرمی کی گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان کو سفری پابندی کی تیسری کیٹگری میں رکھا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان کو 60 روز میں امریکی حکام کے سیکیورٹی خدشات دور کرنا ہوں گے۔
اس گروپ میں 26 ممالک شامل ہیں، رائٹرز کی جانب سے حاصل کردہ ایک میمو میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ اقدامات کا مقصد امریکا میں داخل ہونے والے غیر ملکی شہریوں کی اسکریننگ کے طریقہ کار کو مزید سخت بنانا ہے۔رپورٹس کے مطابق 41 ممالک کو 3 گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلے گروپ میں افغانستان، ایران اور شام سمیت 10 ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک کے شہریوں کو مکمل ویزہ پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، دوسرے گروپ میں شامل ممالک کو جزوی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پابندیوں سے بچنے کے لیے کے مطابق پاکستان کو سفری پابندی کی مہلت گیا ہے
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز
تہران / واشنگٹن(آئی پی ایس )امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصا آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دور واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرغیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی اگلی خبرپاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم