متحدہ عرب امارات میں عید الفطر کی چھٹیوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
ابوظہبی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مارچ 2025ء ) متحدہ عرب امارات میں حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر عید الفطر کی چھٹیوں کا اعلان کردیا گیا۔ اماراتی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ملک بھر میں سرکاری شعبے کے ملازمین کے لیے عید الفطر کی چھٹیوں کی تاریخوں کا اعلان کیا ہے، اس حوالے سے وفاقی اتھارٹی برائے سرکاری انسانی وسائل نے کہا کہ ملک میں عیدالفطرکی تعطیلات 1 شوال سے شروع ہوکر 3 شوال 1446 ہجری کو ختم ہوں گی، 4 شوال سے سرکاری امور دوبارہ سے سر انجام دیئے جائیں گے۔
بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں چاند کی رویت 29 مارچ کو ہوگی، چاند نظر آنے یا نہ آنے کی صورت میں اسلامی مہینے رمضان المبارک کی مدت 29 یا 30 دن ہوگی، جس کے بعد عیدالفطر یکم شوال کو منائی جاتی ہے جو کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے اختتام پر ہے، اگر چاند 29 مارچ کو نظر آتا ہے تو عید الفطر 30 مارچ بروز اتوار کو ہوگی اور یکم اپریل تک سرکاری ملازمین کے لیے عید الفطر کی تعطیلات ہوں گی، تاہم اس کے نتیجے میں 29 مارچ سے یکم اپریل تک چار دن کی تعطیل بن جائیں گی کیوں کہ ملک بھر میں زیادہ تر ملازمین کے لیے ہفتے کا روز ویک اینڈ میں شامل ہے۔(جاری ہے)
دریں اثناء، اگر 29 مارچ کو چاند نظر نہیں آتا اور رمضان المبارک 30 دن تک جاری رہتا ہے تو شوال کا پہلا دن 31 مارچ بروز پیر کو آئے گا، اس صورت میں 31 مارچ سے 2 اپریل تک عید کی تعطیلات ہوں گی، اس صورت میں رہائشیوں کو پانچ دن کا طویل ویک اینڈ ملے گا جو 29 مارچ سے 2 اپریل تک ہوگا، اگر رمضان کا مقدس مہینہ 30 دن مکمل کرتا ہے تو پھر 30 رمضان المبارک اتوار 30 مارچ کو عید الفطر کی تعطیلات میں شامل سرکاری تعطیل ہوگی۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے متحدہ عرب امارات رمضان المبارک عید الفطر کی کی تعطیلات اپریل تک مارچ کو
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔