کوئٹہ، 9 روز سے ٹرین سروسز بند، عید الفطر کیلئے اسپیشل ٹرین کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
پاکستان ریلویز کے مطابق 26 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور کیلئے اسپیشل ٹرین چلے گی، جبکہ جعفر ایکسپریس کو پیش آنیوالے واقعہ کے بعد کوئٹہ سے اندرون ملک ٹرین سروسز معطل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جعفر ایکسپریس کو پیش آنے والے واقعہ کے بعد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے اندرون ملک جانیوالی ٹرین سروسز 9 روز سے معطل ہیں۔ دوسری جانب پاکستان ریلویز نے عید الفطر کے لئے کوئٹہ سے پشاور اسپیشل ٹرین جانے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سے اندرونِ ملک کے لئے ٹرین سروس گزشتہ 9 روز سے معطل ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق ضلع کچھی میں 11 مارچ کو دہشت گردی سے متاثرہ ریلوے ٹریک کی مرمت ہو چکی ہے۔ حملے میں جعفر ایکسپریس کی متاثرہ بوگیوں کی مرمت کا کام بھی مکمل ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق اندرون ملک کے لیے ٹرین سروس سکیورٹی کلیئرنس کے بعد بحال کی جائے گی، جبکہ چمن کے لئے پیسنجر ٹرین پہلے ہی بحال کی جا چکی ہے۔ دوسری جانب پاکستان ریلویز نے عید الفطر کے موقع پر 5 اسپیشل ٹرینیں چلانے کا اعلان کرتے ہوئے شیڈول جاری کیا ہے۔ جس میں کوئٹہ سے پشاور کے لئے بھی خصوصی ٹرین کا اعلان ہوا ہے۔ شیڈول کے مطابق 26 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور کے لئے اسپیشل ٹرین چلے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کوئٹہ سے پشاور اسپیشل ٹرین کا اعلان کے مطابق کے لئے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔