بھارتی کرکٹر یوزویندر چہل طلاق پر سابق اہلیہ کو کتنی رقم دیں گے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
بھارتی کرکٹر یوزویندر چہل اپنی سابق اہلیہ دھناشری ورما کے درمیان ہونے والی طلاق کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ ایک برس سے علیحدہ رہنے والے بھارتی کرکٹر یوزویندر چہل اور ان کی اہلیہ کے درمیان بالآخر طلاق کے معاملات طے پاگئے۔
جس کے حت بھارتی کرکٹر یوزویندر چہل اپنی سابق اہلیہ دھناشری ورما کو پونے پانچ کروڑ روپے دینے کو تیار ہوگئے۔ جس میں آدھی رقم وہ دے چکے ہیں۔
دونوں کے درمیان طلاق ہونے کی افواہیں کئی ماہ سے زیر گردش تھیں لیکن جوڑے نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔
یہ خبر بھی پڑھیں : کیا چہل دھناشری ورما کو دھوکا دے رہے ہیں؟ تصویر وائرل
تاہم چیمپئنز ٹرافی کے دوران کرکٹر کے ساتھ ایک آر جے مہوش کے ساتھ میچ دیکھنے کی تصاویر وائرل ہونے پر افواہوں نے مزید زور پکڑ لیا تھا۔
یاد رہے کہ کرکٹر یوزویندر چہل نے 2020 میں معروف کوریوگرافر دھنا شری ورما سے شادی کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :