پی ٹی آئی رہنما نے عدالت میں سرنڈر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ اور توڑ پھوڑ کے مقدمات عدالت میں سرنڈر کردیا۔
تفصیلات کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس حملہ اور توڑ پھوڑ کے دو مقدمات میں وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے معاملے پر پی ٹی آئی رہنما نے دونوں مقدمات میں عدالت میں سرنڈر کردیا۔
راجہ بشارت کیجانب نے وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کیلئے انسداد دہشت گردی عدالت درخواست دائر کردی۔
عدالت نے پی ٹی آئی رہنما کی وارنٹ منسوخی کی درخواست منظور کرلی اور کیس کی سماعت 7 اپریل تک ملتوی کردی۔
تحریک انصاف کے رہنما جوڈیشل کمپلیکس حملہ اور توڑ پھوڑ کے 2 کیسز میں نامزد ہیں۔
عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ ،ٹوڑ پھوڑ کے مقدمات کے جیل ٹرائل کیلئے متعلقہ وزارت کو خط لکھ رکھا ہے بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر پارٹی رہنماوں کیخلاف جوڈیشل کمپلیکس حملہ توڑ پھوڑ پرتھانہ رمنا میں مقدمات درج ہے۔
یاد رہے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما مراد سعید، حماد اظہر اور فرخ حبیب کو اشتہاری قرار دے دیا تھا جبکہ عدالت نے واثق قیوم عباسی، راجہ بشارت سمیت دیگر غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے تھے۔
واضح رہے بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی تھی، جس میں پولیس اور کارکنان کے درمیان جھڑپیں اور جلاؤ گھیراؤ سے صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی۔
پولیس ترجمان کے مطابق مشتعل مظاہرین نے25سے زائد موٹرسائیکلیں اور گاڑیوں کو جلایا، اس کے علاوہ پولیس چوکی اور درختوں کو بھی آگ لگائی تھی جبکہ نذر آتش کی جانے والی گاڑیوں میں اسلام آباد پولیس کی دو اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی بھی شامل تھی۔
مزید پڑھیں :کراچی میں کل کون کون سے راستے بند ہوں گے؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمپلیکس حملہ پی ٹی آئی توڑ پھوڑ عدالت نے پھوڑ کے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔